تلنگانہ سے راجیہ سبھا کیلئے کانگریس امیدواروں کے مسئلہ پر الجھن برقرار

   

سپریا شرنیٹ اور کنہیا کمار کے نام زیر غور، دوسری نشست کیلئے کئی سینئر قائدین دعویدار
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے لئے کانگریس اور بی آر ایس نے امیدواروں کے انتخاب پر سرگرم مشاورت شروع کردی ہے۔ راجیہ سبھا کی تین نشستوں کیلئے 15 فروری تک پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جائیں گے اور توقع ہے کہ 14 فروری تک دونوں پارٹیاں امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دیں گی۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس دو اور بی آر ایس ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ کانگریس کی جانب سے تین امیدواروں کو میدان میں اتارکر بی آر ایس میں کراس ووٹنگ کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں لیکن چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے توثیق نہیں کی ہے۔ کانگریس کے 2 امیدواروں میں پارٹی نے سابق صدر سونیا گاندھی کو ایک نشست کا پیشکش کیا تھا لیکن ہائی کمان سونیا گاندھی کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کے بجائے لوک سبھا چناؤ میں مقابلہ کے حق میں ہے تاکہ پارٹی کو فائدہ ہو۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اے آئی سی سی کوٹہ کے تحت ایک نشست پر تلنگانہ کے باہر کسی قائد کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیاجاسکتا ہے۔ ہائی کمان کی جانب سے پارٹی ترجمان سپریا شرنیٹ کے نام کو قطعیت دینے کی اطلاعات ہیں۔ سپریا شرنیٹ صحافی سے سیاستداں بنی ہیں اور وہ دہلی سے تعلق رکھتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پرینکا گاندھی سے قریبی روابط کے سبب ہائی کمان نے انہیں تلنگانہ سے راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ کی انچارج دیپا داس منشی عنقریب اعلان کرسکتی ہیں ۔ راجیہ سبھی کی ایک نشست کیلئے ہائی کمان کے زیر غور ناموں میں مکل واسنی ، پون کھیرا ، کنہیا کمار اور ابھیشک منو سنگھوی کے نام بھی پارٹی حلقوں میں زیر گشت ہیں۔ تلنگانہ کے کئی سینئر قائدین راجیہ سبھا کے دعویداروں میں شامل ہیں۔ ہائی کمان کی جانب سے ایک نشست محفوظ کرنے کے بعد صرف ایک نشست باقی رہ جائے گی ۔ جس پر امیدوار کا انتخاب کرنا کانگریس کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ سے محروم قائدین نے بھی راجیہ سبھا کیلئے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیپا داس منشی 14 فروری کو حیدرآباد پہنچ رہی ہیں اور اے آئی سی سی کے نمائندہ اجئے ماکن کے ہمراہ وہ سینئر قائدین سے ملاقات کریں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ لوک سبھا کے امیدواروں کے مسئلہ پر بھی دیپا داس منشی سینئر قائدین سے مشاورت کریں گی۔ 1