ناراض قائدین کو منانے کی کوشش، پی سی سی صدر کے لیے اتفاق رائے کا فیصلہ
حیدرآباد: تلنگانہ میں پردیش کانگریس کی صدارت پر انتخاب کا مسئلہ پارٹی ہائی کمان کیلئے درد سر بن چکا ہے۔ پارٹی کے ریاستی یونٹ میں گروہ بندیوں کے نتیجہ میں ہائی کمان کو نئے صدر کے اعلان میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی کو صدارت کیلئے جو نام پیش کئے گئے ،ان میں رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کا نام سرفہرست بتایا جاتا ہے۔ یہ اطلاع عام ہوتے ہی پارٹی کے ناراض قائدین اچانک سرگرم ہوگئے اور بعض نے ریونت ریڈی کو مقرر کرنے کی صورت میں پارٹی سے استعفیٰ کی دھمکی دے ڈالی۔ 2023 ء اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی اقتدار پر واپسی کے مشن کے ساتھ ہائی کمان کسی نوجوان چہرہ کو عوام کے درمیان پیش کرنا چاہتاہے لیکن سینئر قائدین ذات پات کی بنیاد پر تقرر کی مانگ کرتے ہوئے ہائی کمان کے اعلان میں رکاوٹ کا سبب بن چکے ہیں۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، ہنمنت راؤ ، بھٹی وکرمارکا ، سمپت کمار ، مدھو یاشکی اور دیگر دعویداروں کو منانے کیلئے راہول گاندھی میدان میں آچکے ہیں۔ راہول گاندھی نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیلیفون پر ناراض قائدین سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کریں گے۔ راہول گاندھی قائدین میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ بتایا جاتاہے کہ اندرون دو یوم راہول گاندھی ناراض قائدین سے فون پر ربط قائم کریں گے اور اے آئی سی سی کی جانب سے ایسے قائدین کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تنظیمی سطح پر تبدیلیوں کے ذریعہ بعض قائدین کو قومی عہدے دیئے جائیں گے۔ مختلف طبقات کو موثر نمائندگی کیلئے بھٹی وکرمارکا کو تشہیری کمیٹی کا صدرنشین مقرر کیا جاسکتا ہے جبکہ نئے سی ایل پی لیڈر کی حیثیت سے نوجوان رکن اسمبلی ڈی سریدھر بابو کا نام زیر غور ہے۔ ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدوں پر بعض قائدین کو نامزد کرتے ہوئے ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ راہول گاندھی کی مداخلت کے بعد ناراض سرگرمیوں پر بآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ توقع ہے کہ نئے سال کے آغاز سے قبل کانگریس تلنگانہ ، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹرا کے نئے صدور کے ناموں کا اعلان کردے گی۔