چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راو نے ریاست میں مسلمانوں کیلئے بھی دلت بندھو کی طرح کی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ کچھ وقت درکار ہوگا اور صبر سے کام لینا ہوگا ۔ حکومت مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کرتی ہے ۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میںاقلیتی امور پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کرنے والی کئی کمیٹیوں کے ناموں کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ سبھی میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کیلئے بھی دلت بندھو کی طرح کی اسکیم شروع کی جائے گی ۔ یہ اعلان مسلمانوں کیلئے خوش آئند کہا جاسکتا ہے تاہم شرط یہی ہے کہ اس کو بھی محض اعلان تک محدود نہیںکیا جانا چاہئے بلکہ اس کو عملی شکل دینے کی ضرورت ہے ۔ اب تک ریاست میںمسلمانوں کیلئے کان خوش کرنے والے بے شمار اعلانات کئے گئے ۔ کئی مرتبہ مسلمانوں کو تسلیاںاور دلاسے دئے گئے ۔ ان کی پسماندگی کا بھی ہر موقع پر اعتراف کیا گیا ۔ ان کیلئے بہت کچھ کرنے کے وعدے کئے گئے لیکن ابھی تک کسی بھی بڑے اور اہم اعلان کو عملی شکل نہیں دی گئی ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی بات ہو یا پھر وقف جائیدادوں کے تحفظ کی بات ہو۔ وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دینے کی بات ہو یا پھر ان کی تعلیمی و معاشی حالت کوسدھارنے کے وعدے ہوں ۔ کئی وعدے کئے گئے ۔ انتخابات کے موقع پر مسلمانوں کو مطمئن کرنے اور ان کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ایک مقررہ وقت میں بہت کچھ کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن عملی شکل دینے میں برسوں لگ جاتے ہیںاور ایسا لگتا ہے کہ تمام وعدوں کو برفدان کی نذر کردیا گیا ہو۔ 12فیصد تحفظات چار مہینوں میںفراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن سات سال سے زائد وقت گذر چکا ہے اس سمت کوئی کوشش ہی نہیںہوئی ہے اور نہ کوئی پیشرفت کی گئی ہے ۔ اسی طرح وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دینے اورریاست میں وقف جائیدادوں کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس پر بھی عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔
حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات تو خوش آئند ہیں اور ہمیشہ سے رہتے ہیں لیکن ان کو حقیقت کار وپ نہیںدیا جاتا ۔ مسلمانوں کیلئے جو اسکیمات پہلے سے موجود ہیں ان کیلئے فنڈز تک جاری نہیںکئے جاتے ۔ پہلے ہی مسلمانوں کیلئے فنڈز کم ہیں اور ان کو بھی مکمل فنڈ جاری نہیںکئے جاتے ۔ حد تو یہ ہے کہ مسلمانوں اور اقلیتی بہبود سے متعلق اداروں کیلئے ذمہ داروں کا تقرر تک نہیں کیا جاتا ۔ اقلیتی بہبود میں اب بھی کئی عہدے تقرر طلب ہیں۔ یا تو عہدیدار دستیاب نہیں ہیں یا پھر حکومت ان پر تقررات میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرتی ہے ۔ ایک طرف حکومت یہ اعتراف ضرور کرتی ہے کہ مسلمانوں کی حالت انتہائی ابتر اور خراب ہے ۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیںہوگا جس میںمسلمانوں کی حالت کو اطمینان بخش قرار دیا جاسکے ۔ اس کے باوجود ان کیلئے کچھ بھی کرنے کی بات آتی ہے تو ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے ۔ اب جبکہ اسمبلی میں چیف منسٹر نے بیان دیا ہے اور دلت بندھو کی طرح معاشی امداد کی اسکیم شروع کرنے کی بات کی ہے تو اس کو کم از کم عملی شکل دینے کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر کے بیان کے مطابق ریاست کی معاشی حالت میں بھی سدھار پیدا ہونے لگا ہے ۔ ایسے میںجتنا ممکن ہوسکے جلد اقلیتوں کیلئے بھی اسی طرح کی اسکیم کو قطعیت دینے کی ضرورت ہے اور اس پر عمل آوری کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس میں کسی طرح کے ٹال مٹول کی پالیسی سے گریز کیا جانا چاہئے جس طرح دوسرے اعلانات کے معاملہ میں کیا گیا ۔
اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ نہ صرف ریاست بلکہ سارے ملک میںمسلمانوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمان دوسرے طبقات سے پسماندہ ہیں۔ اس کے باوجود جہاں تک فلاح و بہبود کی یا معاشی فوائد کی بات آتی ہے تو دوسروںکو ترجیح دی جاتی ہے اور مسلمانوں کے تعلق سے صرف کان خوش کئے جاتے ہیں۔ کم از کم دلت بندھو کی طرح کی اسکیم کے معاملے میں ایسا نہیںکیا جانا چاہئے ۔ اس میں حکومت کو پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ محض اعلان پر اکتفاء نہیںکیا جانا چاہئے بلکہ ایک مقررہ وقت میں اس اسکیم کو قطعیت دے کر اس پر عمل کیا جانا چاہئے ۔
