چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے جو اپنے فیصلوں کے ذریعہ سب کو چونکا دینے اور مخالفین کو خاموش کردینے کے معاملے میں شہرت رکھتے ہیں آج ایک اور بڑا اعلان کردیا اور کہا کہ ریاست میں 80 ہزار سے زائد سرکاری جائیدادوں پر تقررات عمل میںلائے جائیں گے ۔ اس کیلئے اعلامیہ بھی جاری کردیا جائیگا ۔ کے سی آر کا یہ اعلان ایک تیر سے کئی نشانے والا فیصلہ ہے ۔ اس کے سب سے اہم اثرات میںنوجوانوںمیںجو بے چینی اور ناراضگی کی کیفیت پیدا ہو رہی تھی اور ان میں مایوسی کا جو ماحول پیدا ہو رہا تھا وہ ختم ہوجائیگا ۔ نوجوانوںمیں اس اعلان سے ایک نئی امید جاگی ہے وہ ایک بار پھر سرکاری ملازمتوں کیلئے خود کو تیار ہوجائیں گے ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر کے اس اعلان نے اپوزیشن کے مخالف حکومت پروپگنڈہ کو بھی عملا پنکچر کردیا ہے ۔ ریاست میںبی جے پی ہو یا کانگریس ہو یا پھر وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی ہو سبھی نے سرکاری محکمہ جات میں تقررات کے مسئلہ پر ہی حکومت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا ۔ اب چیف منسٹر نے ایک اعلان کرتے ہوئے سبھی مخالف مہم چلانے والوںکو عملا بے اثر کردیا ہے ۔ تاہم شرط یہی ہے کہ اس کو محض اعلان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس پر عمل آوری کیلئے فوری اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پورے شفاف انداز میں تقررات کا عمل ایک مقررہ مدت کے اندر مکمل کرلیا جائے ۔ اب نوجوانوںکیلئے یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ خود کو ان ہزاروں ملازمتوں کے قابل بنائیں۔ اس سلسلہ میںنوجوانوںکو قبل از وقت تیاریوںکا آغاز کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اپنے اسنادات کو مجتمع کرنا ۔ جو تحفظات کے دائرہ میںآتے ہیںاس کے مطابق تمام ضروری امور کو مکمل کرنا ۔ تقررات کے اعلامیہ کا تفصیلی اور بغور مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے لئے مناسب جائیداد کی نشاندہی کرنا اور پھر اس کے سرکاری امتحانات کی تیاریوںمیں پوری محنت اور لگن سے جٹ جانا چاہئے ۔ ہزاروں کی تعداد میںسرکاری ملازمتوںکا موقع ایک واقعی سنہری موقع ہے اور اس کو گنوانا نہیںچاہئے ۔ اس معاملے میں غفلت و لاپرواہی بھی بہت زیادہ مہنگی ثابت ہوسکتی ہے ۔ غفلت سے جاگ جانا چاہئے ۔
جہاں تک اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوںکا سوال ہے تو اقلیتی بہبود محکمہ میں بھی 18 سو سے زائد جائیدادوں پر تقررات ہونگے ۔ اردو زبان کا بھی اس میں بڑا دخل ہوگا ۔ اردو تحریر اور پڑھنے لکھنے کی صلاحیت کو ابھی سے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش شروع کردی جانی چاہئے ۔ اس کے علاوہ چار فیصد تحفظات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے تحت عام زمروں میںپانچ ہزار جائیدادیں دستیاب ہوسکتی ہیں۔ جو لوگ چار فیصدتحفظات کے زمرہ میںنہیں آتے ان کیلئے معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے دس فیصد کا کوٹہ بھی مل سکتا ہے ۔ اس میں آٹھ ہزار جائیدادیں دستیاب ہوسکتی ہیں۔ ان زمروں کے علاوہ خود میںتعلیمی قابلیت اور مہارت رکھنے والے نوجوانوں کیلئے تمام زمرے بھی کھلے ہیں۔ خود کو امتحانات کی تیاریوں کیلئے وقف کردینے کی ضرورت ہے ۔ مسابقت کے بغیر تقررات کی امید کرنا فضول ہی کہا جاسکتا ہے ۔ مسابقت اور مہارت کے ذریعہ کوئی بھی مشکل مہم پوری کی جاسکتی ہے ۔ تیاری اور محنت انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی ۔ اس کے علاوہ دستاویزات کی تیاری پر بھی خاص توجہ دی جانی چاہئے ۔ چار فیصد تحفظات کے زمرہ میں آتے ہیں تو اس کے دستاویزات یا اگر اس میںاہل نہ ہوں تو معاشی پسماندہ طبقات کاسرٹیفیکٹ قبل از وقت ہی حاصل کرلینا چاہئے ۔ عین وقت پر بھاگ دوڑ کام نہیں آسکتی ۔ اس لئے ہر کام وقت رہتے کرنے پر توجہ کرنی چاہئے ۔ دوسروں پر انحصار کرنے یا بعد میں مورد الزام ٹہرانے سے بہتر ہے کہ خود ہی قبل از وقت کوشش شروع کی جائے ۔
مسلمانوںکی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی و بہتری کیلئے سرگرم تنظیموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں ایک سرگرم رول نبھائیں۔ ملت کے نوجوانوںکو اس موقع سے بھرپور استفادہ کے قابل بنانے میںیہ تنظیمیں بھی انتہائی اہم رول نبھاسکتی ہیں اور انہیں بھی کوئی کسر باقی نہیںرکھنی چاہئے ۔ آج وقت ہے اور موقع بھی دستیاب ہوا ہے ۔ اگر اب بھی ہم اس سے استفادہ کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے تو بعد میں دوسروں کو مورد الزام ٹہرانے سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا ۔ ملت کے ہمدرد سبھی گوشوںکو اس معاملے میں اپنے اپنے طور پر ممکنہ حد تک جو کچھ بھی ہوسکتا ہے وہ کرنے کیلئے کمر کس لینی چاہئے ۔
