تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ٹکراؤ اور تصادم کی صورتحال میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بی جے پی ہر موقع کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں میںشدت پیدا کرچکی ہے جبکہ ٹی آر ایس کی جانب سے بھی ہر موقع پر بی جے پی کا جواب دیتے ہوئے اس کی سیاسی اہمیت میںاضافہ کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی ایک ایک حلقہ اسمبلی میں اپنی کامیابی کوا نتہائی اہمیت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے تشہیر حاصل کرنے اور عوام کے درمیان موضوع بحث بننے میں کامیاب ہو رہی ہے اور شائد اس کا سہرا خود ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راو کے سر جاتا ہے جو ہر معمولی بات پر راست یا اپنے قریبی قائدین کے ذریعہ جواب دینے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں صرف گوشہ محل حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی اور وہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ امیدوار کی علاقائی شناخت کی وجہ سے یہاں اسے کامیابی ملی تھی ۔ دوباک میں بی جے پی نے ضمنی انتخاب میں انتہائی منظم انداز میں انتخاب لڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی ۔ وہ بھی محض ایک حلقہ کی کامیابی کہی جاسکتی ہے ۔ ناگرجنا ساگر حلقہ میں بی جے پی کو انتہائی معمولی تعداد میں ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ حضور آباد ضمنی انتخاب میں بی جے پی اپنی کامیابی کا ضرورت سے زیادہ ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے اور تشہیر کر رہی ہے حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کامیابی بی جے پی کی نہیں بلکہ ایٹالہ راجندر کی ہے ۔ ایٹالہ راجندر کی مقامی سطح پر مقبولیت نے انہیں عوام کا ووٹ دلایا اور انہیں دوبارہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ یہاں بی جے پی کامیابی کا سہرا اپنے سر لیتے ہوئے اس کی تشہیر کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ٹی آر ایس بھی اس کے جال میں پھنستی جا رہی ہے اور ہر موقع پر بی جے پی کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے ۔ اس سے دونوں جماعتوں کے مابین سیاسی ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوتی جا رہی ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ شدید ہی ہو رہی ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے بی جے پی کو جتنی اہمیت دی جا رہی ہے اتنی کی بی جے پی حقدار نہیں ہے ۔
دو ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد بھی بی جے پی کے تلنگانہ اسمبلی میں محض تین ارکان ہیں۔ جس طرح انتخابی نتیجہ کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے کہا تھا کہ ضمنی انتخابی نتائج سے نہ حکومت کے استحکام پر کوئی اثر پڑنے والا ہے اور نہ ہی اس کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہئے ۔ تاہم ٹی آر ایس یہ مسلسل غلطی کر رہی ہے کہ وہ بی جے پی کو اپنی تشہیر کرنے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی جا رہی ہے ۔ بی جے پی ریاست میں محض تشہیر کے بل بوتے پر اپنے آپ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ اس کی حکمت عملی اور منصوبہ ہوسکتا ہے ۔ اسی کے تحت مسلسل برسر اقتدار جماعت سے ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے ۔ خود کو ٹی آر ایس کی واحد متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ریاست میں سیاسی طور پر اپنے قدم جمانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عوام کے درمیان آج بھی بی جے پی کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جتنی اسے تشہیر یا تشہیر کا موقع دیا جا رہا ہے ۔ یہ ایک سیاسی غلطی ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے مسلسل بی جے پی پر تبصرے کرتے ہوئے اور اس کے قائدین کو نشانہ بناتے ہوئے یا اس کے پروگرامس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کو یہ موقع فراہم کیا جا رہا ہے ۔بی جے پی اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے قدم مضبوط کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اور اس کے مرکزی قائدین نے بھی ریاستی قائدین کو ایسا کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ٹی آر ایس کو بی جے پی کے اس جال سے بچنا چاہئے ۔
سیاسی سمجھ بوجھ کے معاملے میںچیف منسٹر و صدر ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راو انتہائی ماہر سمجھے جاتے ہیں اور مخالفین کو کمزور کرنے یا شکست دینے کی حکمت عملی بھی تیار کرتے ہیں تاہم دوسری جماعتوں کی اہمیت کو گھٹانے کی حکمت عملی کے تحت ٹی آر ایس خود ریاست میں بی جے پی کے استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے ۔ ٹی آر ایس اورا س کی قیادت کو اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنے کی کوششں میں بی جے پی کا سہارا یا معاون بننے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ایسی کوئی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ٹی آر ایس کو تو استحکام حاصل ہو لیکن اپوزیشن کو کمزور کرنے کے نام پر بی جے پی کو استحکام کا موقع نہ ملنے پائے ۔
