تلنگانہ میں آئی اے ایس عہدیداروں کے بڑے پیمانے پر تبادلہ کی تیاریاں

   

متحرک عہدیداروں کا انتخاب، کونسل چناؤ کے فوری بعد احکامات کا امکان
حیدرآباد۔/19فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نظم و نسق کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے آئی اے ایس عہدیداروں کے بڑے پیمانے پر تبادلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی نئی اسکیمات پر موثر عمل آوری میں عہدیداروں کے تساہل کی شکایت اور خاص طور پر ضلع کلکٹرس کے خلاف ارکان اسمبلی کی شکایات کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے کونسل کے انتخابات کے فوری بعد بڑے پیمانے پر تبادلوں کا فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کونسل کی تین نشستوں کیلئے 27 فروری کو رائے دہی مقرر ہے لہذا کونسل کے الیکشن کے فوری بعد اور اسمبلی بجٹ سیشن کے آغاز سے قبل آئی اے ایس عہدیداروں کے تبادلے کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں چیف سکریٹری شانتی کماری اور اپنے مشیروں کو متحرک اور کارکرد عہدیداروں کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں آئی اے ایس عہدیداروں کی کارکردگی کے سلسلہ میں پارٹی ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر سے شکایت کی تھی۔ چیف منسٹر نے گذشتہ دنوں ایک عوامی تقریب میں کہا تھا کہ ضلع کلکٹرس ایرکنڈیشنڈ چیمبرس سے باہر نکلنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ رعیتو بھروسہ، کسانوں کے قرض معافی، رعیتو آتمیا بھروسہ جیسی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے حکومت نے علی الترتیب 21 ہزار کروڑ اور 12 ہزار کروڑ جاری کئے ہیں۔ دونوں اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے محکمہ جات میں پرنسپل سکریٹری اور اضلاع میں کلکٹر کے عہدہ پر متحرک عہدیداروں کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر اپنے آفس میں بھی عہدیداروں کی تبدیلی کی تیاری کررہے ہیں۔ عوامی نمائندوں اور حکومت کے درمیان تال میل کی کمی کے سبب ارکان اسمبلی میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ چیف منسٹر بی آر ایس دور حکومت میں بہتر خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی خدمات اہم محکمہ جات کیلئے حاصل کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے عہدیداروں کی تبدیلی کی سرگرمیوں کے درمیان عہدیداروں نے اہم پوسٹنگ کیلئے پیروی کا آغاز کردیا ہے۔ اہم پوسٹنگ کیلئے چیف سکریٹری اور ریاستی وزراء سے رجوع ہورہے ہیں۔1