تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل کا انحصار کمیشن پر

   

پروفیسر کودنڈا رام کا الزام، 6 اضلاع میں پانی کیلئے یاترا کا آغاز
حیدرآباد۔4۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام نے الزام عائد کیا کہ کمیشن کے حصول کی بنیاد پر ٹی آر ایس حکومت آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل کر رہی ہے۔ کالیشورم پراجکٹس سے بھاری کمیشن حاصل ہوا جس کے نتیجہ میں یہ پراجکٹ تیزی کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کودنڈا رام نے کہا کہ پالمور پراجکٹ کی تکمیل سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اس پراجکٹ سے کمیشن حاصل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں صرف وہی پراجکٹس جلد تکمیل پارہے ہیں جن میں حکومت کو بہتر کمیشن حاصل ہو۔ کالیشورم ، پرگتی بھون اور نئے سکریٹریٹ کی تعمیر میں حکومت کو کمیشن حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نلگنڈہ اور پالمور پراجکٹس کی تکمیل سے حکومت کو دلچسپی نہیں۔ دریائے کرشنا سے پانی استعمال کرتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے نتیجہ میں کئی اضلاع میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضرورتوں کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اضلاع کے پراجکٹس سے کمیشن حاصل نہیں ہوا ، لہذا حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ کودنڈا رام نے کہا کہ کسانوں کے مسئلہ پر کے سی آر نے نئی دہلی میں احتجاج کا اعلان کیا لیکن کرشنا کے پانی کے استعمال میں سنجیدگی نہیں ہے۔ نلگنڈہ ، محبوب نگر اور دیگر علاقے کے سی آر حکومت کی عدم توجہی کے نتیجہ میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 6 اضلاع کیلئے دریائے کرشنا کے پانی کے استعمال کا مطالبہ کرتے ہوئے یاترا کا آغاز کیا گیا جو 6 اضلاع سے ہوکر گزرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پانی پر تلنگانہ اپنے حق کے استعمال میں ناکام ہوچکا ہے ۔ کودنڈا رام نے مرکز کی جانب سے گزٹ کی اجرائی پر تنقید کی اور کہا کہ پانی کے مسئلہ پر مرکز کا رویہ جانبدارانہ ہے۔ آندھراپردیش کو پانی کی استعمال کی اجازت دی گئی جبکہ تلنگانہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ ر