تلنگانہ میں اضلاع کی تنظیم جدید کیلئے آندھرا پردیش فارمولہ پر غور

   

لوک سبھا حلقوں کی بنیاد پر نئے اضلاع، 2026 میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی نئی حد بندی
حیدرآباد۔/16 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اضلاع کی تنظیم جدید کے سلسلہ میں آندھرا پردیش حکومت کے فارمولہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ریاست کی تقسیم کے وقت تلنگانہ میں 10 اور آندھرا پردیش میں 13 اضلاع تھے۔ سابق ٹی آر ایس حکومت نے اضلاع کی تنظیم جدید کرتے ہوئے جملہ 33 اضلاع تشکیل دیئے جبکہ آندھرا پردیش حکومت نے 26 نئے اضلاع قائم کئے۔ آندھرا پردیش حکومت نے لوک سبھا حلقہ جات کی بنیاد پر اضلاع کی تشکیل عمل میں لائی اور وہاں 25 لوک سبھا حلقہ جات ہیں۔ تلنگانہ میں نئے اضلاع کی تشکیل پر سیاسی حلقوں میں کافی تنقیدیں کی گئیں اور کہا جارہا ہے کہ سیاسی فائدہ کیلئے چھوٹے اضلاع تشکیل دیئے گئے جس کے نتیجہ میں ایک اسمبلی حلقہ دو اضلاع میں تقسیم ہوا ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے اضلاع کی تنظیم جدید کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں خصوصی کمیشن قائم کیا جائے گا۔ حکومت لوک سبھا حلقوں کی بنیاد پر نئے اضلاع کی تشکیل کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن لوک سبھا حلقوں کی نئی حد بندی کے نتیجہ میں حکومت کو دشواری ممکن ہے۔ تلنگانہ میں 17 لوک سبھا حلقے ہیں اس اعتبار سے اضلاع کی تعداد 17 ہوسکتی ہے۔ حکومت اضلاع کی تعداد کو 33 سے گھٹا کر 17 یا 18 کرنا چاہتی ہے۔ اسی دوران لوک سبھا حلقہ جات کی قومی سطح پر ازسرنو حدبندی اور تلگو ریاستوں میں اسمبلی حلقہ جات کی نئی حد بندی 2026 میں انجام دی جائے گی۔ امید کی جارہی ہے کہ نئی حد بندی سے تلگو ریاستوں میں لوک سبھا نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ بعض گوشوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مرکزی حکومت جنوبی ہند کی ریاستوں میں لوک سبھا نشستوں کی تعداد کم کرتے ہوئے شمالی ریاستوں میں اضافہ کرے گی تاکہ شمال سے زیادہ نشستیں حاصل ہوسکیں۔1