تلنگانہ میں اقلیتوں سے مکمل لاپرواہی کی ایک اور مثال

   

نرمل اقامتی جونئیر کالج کی عمارت مقفل ۔ حکومت نے کرایہ ادا نہیںکیا

حیدرآباد۔16۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں و کالجس کی عمارتوں کے کرایہ کی عدم اجرائی کے سبب مالکین جانب سے عمارتوں کو مقفل کرنے کے خدشات کا سیاست نے اظہار کیا تھا ۔ آج یہ خدشات اس وقت حقیقت میں بدل گئے جب نرمل میں تلنگانہ اقلیتی اقامتی جونیئر کالج کے مالک نے اعمارت کو مقفل کردیا اور طلبہ اور عملہ کو عمارت میں داخلہ سے روک دیا ۔ زائد از 450 طلبہ کو کالج میں داخلہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے وہ باہر رہے۔ اسکولوں اور کالجس کی عمارت کے کرایہ کی عدم ادائیگی پر ایسی صورتحال کے سلسلہ میں توجہ دلانے کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود نے اس کو نظراندا ز کیا جس کے نتیجہ میں نرمل میں مالک جائیداد نے عمارت کو مقفل کردیا ۔ ذرائع کے مطابق مالک جائیداد نے بروقت کرایہ کی عدم ادائیگی کے سبب ٹمریز کو نوٹس جاری کرکے فوری عمارت کے تخلیہ کی ہدایت دی تھی ۔ جائیداد مالک کا کہنا ہے کہ نہ کرایہ ادا کیا گیا اور نہ نوٹس کا جواب دیا جس کے نتیجہ میں وہ جائیداد کو مقفل کرنے پر مجبور ہیں۔ جناب ایم بی شفیع اللہ سکریٹری مائیناریٹیز ریسڈینشل ایجوکیشنل انسٹیٹوشنس سوسائٹی نے بتایا کہ نرمل واقعہ کا جائزہ لیا جا رہاہے اور اندرون ایک ہفتہ اس کوحل کو کرلیا جائے گا۔ انہو ںنے بتایا کہ مالک کی نوٹس ملنے کے بعد کالج کی عمارت کی منتقلی کے اقدامات شروع کردیئے گئے تھے لیکن کالجس کی کشادگی سے قبل یہ ممکن نہیں ہوپایا ۔ انہوں نے کہا کہ سوسائیٹی کی جانب سے اقلیتی اقامتی کالج کو ایم ایس ڈی پی عمارت میں منتقل کرنے اقدامات کئے جا رہے تھے لیکن ناگزیر وجوہات کی بناء پر یہ ممکن نہ ہوسکا اور آج واقعہ کے بعد عہدیداروں نے متبادل عمارت کی نشاندہی کرلی ہے اندرون ایک ہفتہ اس میں کالج کو منتقل کردیا جائے گا۔ محکمہ سے بجٹ کی اجرائی میں کوتاہی سے دونوں شہروں کے علاوہ اضلاع میں مالکین جائیداد کو 11 ماہ تک کا کرایہ بقایا ہوچکا ہے جس کے سبب مالکین پریشان ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ دنوں میں اقلیتی اقامتی اسکولوںکی عمارتوں کے مالکین کی جانب سے بھی عمارتوں کو مقفل کرنے پر غور کیا جا رہاہے اور جنہو ںنے جائیدادیں ٹمریز کے حوالہ کی ہیں وہ اب اپنی اسوسی ایشن بنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ ٹمریز کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کے حکام سے ملاقات کرکے نمائندگی کی جائے اور مطالبات کی عدم یکسوئی پر متحدہ جدوجہد کے ذریعہ کرایہ وصولی کی جاسکے ۔ م