تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کیلئے پہلے سہ ماہی کے تحت 267 کروڑ مختص

   

گزشتہ بجٹ کا چوتھا سہ ماہی جاری نہیں ہوا، کروڑہا روپئے کے بلز زیر التواء ، اسکیمات میں رکاوٹ
حیدرآباد ۔24۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے لئے مالیاتی سال 2026-27 کے تحت پہلے سہ ماہی کا بجٹ مختص کیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ نے جی او آر ٹی 58 جاری کیا جس کے تحت 267 کروڑ 73 لاکھ 14 ہزار روپئے کی انتظامی منظوری دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے مالیاتی سال 2025-26 کے تیسرے سہ ماہی کے کروڑہا روپئے کے بقایہ جات ابھی تک جاری نہیں کئے۔ اس کے علاوہ چوتھے سہ ماہی کا مکمل بجٹ بھی جاری نہیں ہوا۔ باوجود اس کے جاریہ مالیاتی سال پہلے سہ ماہی کے بجٹ کی انتظامی منظوری کے احکامات جاری کئے گئے ۔ بجٹ کی اجرائی کے بغیر محض جی اوز جاری کرنے سے اسکیمات پر عمل آوری ممکن نہیں ہے ۔ حکومت اقلیتی بہبود کے حق میں بلند بانگ دعوے کر رہی ہے لیکن گزشتہ دو برسوں میں مکمل بجٹ جاری نہیں کیا گیا ۔ گزشتہ سال عہدیداروں نے 1700 کروڑ کی اجرائی کا دعویٰ کیا جبکہ مجموعی بجٹ تقریباً 3000 کروڑ تھا۔ گزشتہ سال تیسرے سہ ماہی کے تحت اقلیتی اداروں کے کروڑہا روپئے کے بلز جاری نہیں ہوئے جس میں عارضی ملازمین کی تنخواہیں بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال چوتھے سہ ماہی کا ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ گزشتہ سال کا باقی بجٹ سرکاری خزانہ میں واپس ہوجائے گا۔ بجٹ تقریر میں اقلیتی بہبود کیلئے جو رقومات مختص کی جاتی ہے ، وہ سال کے اختتام تک بھی مکمل جاری نہیں کی جاتی جس کے نتیجہ میں اقلیتی اداروں کو فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں دشواری کا سامنا ہے۔ جاریہ سال پہلے سہ ماہی کے تحت 267 کروڑ میں ٹریننگ اینڈ ایمپلائیمنٹ اسکیم کے تحت 7 کروڑ 50 لاکھ کی منظوری دی گئی۔ بجٹ میں اسکیم کیلئے 30 کروڑ کی گنجائش ہے۔ راجیو یووا وکاسم کے تحت 790 کروڑ کے منجملہ 197 کروڑ کی منظوری دی گئی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کیلئے 37.50 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ جملہ بجٹ میں 150 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اردو اکیڈیمی کے تحت اردو گھر اور شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 3 کروڑ مختص کئے گئے۔ مینارٹیز اسٹڈی سرکل کیلئے 4 کروڑ میں ایک کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ دائرۃ المعارف عثمانیہ یونیورسٹی کیلئے تین کروڑ کی گنجائش ہے جس میں پہلے سہ ماہی کے تحت 75 لاکھ کی منظوری دی گئی۔ اردو اکیڈیمی کی امداد کے طور پر 29.25 لاکھ مختص کئے گئے۔ وقف ٹریبونل کیلئے 1.5 لاکھ اور تلنگانہ وقف بورڈ کیلئے 5 کروڑ مختص کئے گئے۔ سروے کمشنر وقف کیلئے 1.37 لاکھ اور سنٹر فار ایجوکیشن ڈیولپمنٹ آف مینارٹیز کیلئے 75 لاکھ مختص کئے گئے۔ تلنگانہ حج کمیٹی کیلئے 4 کروڑ میں ایک کروڑ کی منظوری دی گئی۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کی نگہداشت کیلئے 82.5 لاکھ منظور کئے گئے۔ پہلے سہ ماہی کے تحت مختص رقومات متعلقہ اداروں کو کب جاری ہوں گی اس بارے میں یقینی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ حکومت محض کاغذ پر بجٹ جاری کر رہی ہے اور اقلیتی اداروں کے بینک اکاؤنٹس میں رقم کی منتقلی میں تاخیر کے سبب اسکیمات متاثر ہورہی ہیں۔1/k