ماسک اور ٹیکہ اندازی پر توجہ، اومی کرون سے اموات کا خطرہ نہیں، وزیر صحت ہریش راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/7ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر صحت ہریش راؤ نے واضح کیا کہ تلنگانہ میں اومی کرون ویرینٹ کا ایک بھی کیس نہیں ہے اور عوام کو اومی کرون کے پھیلاؤ کی خبروں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ نمس کے دورہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ اومی کرون ویرینٹ کے تیزی سے پھیلاؤ کی صلاحیت کے باوجود ماہرین اور سائینسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس مہلک نہیں ہے۔ تلنگانہ حکومت امکانی تیسری لہر اور اومی کرون وائرس سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اومی کرون سے متاثرہ 11 جوکھم بھرے ممالک سے آنے والے 13 مسافرین کی رپورٹ کورونا پازیٹیو پائی گئی تھی ان کے نمونوں کی لیاب میں جانچ کے بعد وہ اومی کرون وائرس سے متاثر نہیں تھے۔ اس طرح تلنگانہ میں نئے ویرینٹ کا ایک بھی کیس منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ملک کی بعض ریاستوں میں اومی کرون کے کیسس منظر عام پر آئے لیکن تلنگانہ محفوظ ہے باوجود اس کے حکومت نے بچاؤ کیلئے تین اہم فیصلے کئے ہیں۔ وزیر صحت کے مطابق ریاست میں کورونا ٹسٹنگ کی تعداد ایک دن میں 30 تا 40 ہزار ہے اور حکومت نے روزانہ ایک لاکھ تک ٹسٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور عوام میں عمل آوری اور شعور بیداری کیلئے پولیس، بلدی نظم و نسق اور پنچایت راج محکمہ جات کی مدد حاصل کی جارہی ہے۔ حکومت نے ٹیکہ اندازی مہم میں تیزی کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں 93 تا94 فیصد افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جاچکی ہے جبکہ 47 فیصد افراد نے دوسری خوراک حاصل کرلی۔ 15 ڈسمبر کے بعد 80 لاکھ افراد دوسری خوراک کے اہل ہوجائیں گے۔ حکومت پہلی خوراک کا صد فیصد نشانہ مقرر کرنے میں سنجیدہ ہے۔ پہلی خوراک کے معاملہ میں تلنگانہ قومی سطح کے فیصد سے آگے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرنٹ لائین واریئرس کو بوسٹر ڈوز کے سلسلہ میں انہوں نے مرکزی وزیر صحت کو مکتوب روانہ کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب وصول نہیں ہوا۔ مرکز سے کووی شیلڈ ویکسین کی دوسری خوراک کی مدت میں کمی کی درخواست کی گئی ہے فی الوقت پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان 12 ہفتوں کا وقفہ ہے طویل وقفہ کے سبب عوام میں سنجیدگی کم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دواخانوں میں جملہ 27 ہزار بیڈس موجود ہیں جن میں سے 25 ہزار کو آکسیجن سے مربوط کیا گیا ہے۔ عنقریب باقی 2000 بیڈس آکسیجن سے مربوط ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین نے تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کیا ہے اس کے علاوہ نئے ویرینٹ سے اموات کا خطرہ کم ہے لیکن عوام کو احتیاط کرنی ہوگی۔ ویکسین کے متعلق عوام میں غیر ضروری اندیشوں کو دور کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں، کھیل اور فلمی شخصیتوں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں کو اپنا حصہ ادا کرنا چاہیئے۔ر