تلنگانہ میں آئندہ تعلیمی سال کے آغاز پر خدشات

   

تیسری لہر اور بچوں کے متاثر ہونے کے انتباہ پر محکمہ تعلیمات فکر مند

حیدرآباد۔16 مئی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں آئندہ تعلیمی سال بھی ضائع ہوگا! ریاست کے علاوہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں تعلیمی سال 2022 بھی شروع نہیں ہوپائے گا اور تمام ریاستوںمیں محکمہ تعلیم کی جانب سے تفکرات کا اظہارکیا جانے لگا ہے اور ماہرین سے مشاورت کی جا رہی ہے کہ آیا آئندہ تعلیمی سال میں اسکولوں کی کشادگی کے سلسلہ میں کیا فیصلہ کیا جائے ! مرکزی حکومت کی جانب سے جون تا اگسٹ کے دوران کورونا وائرس کی تیسری لہر کے سلسلہ میں ریاستوں کو جاری کئے گئے انتباہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کے زیادہ خدشات ہیں اسی لئے احتیاط اور تمام تر تیاریوں کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر کے انتباہ اور اس میں بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات کے ساتھ ہی اولیائے طلبہ اور سرپرستوں نے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے سلسلہ میں تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہناہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران بچوں کے متاثر ہونے کے خدشات کے اظہار کے بعد انہیں ایسا نہیں لگتا کہ آئندہ تعلیمی سال کے دوران بھی باضابطہ تعلیم کا آغاز ہوپائے گا ۔ماہرین تعلیم کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے تیسری لہر سے نمٹنے کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں کی کشادگی کے سلسلہ میں بھی قطعی فیصلہ کرنا پڑے گا کیونکہ ریاست میں سال گذشتہ تعلیمی سال کے آخری مرحلہ کے دوران باضابطہ کلاسس کے آغاز کے سلسلہ میں احکامات جاری کردیئے گئے تھے لیکن اب تیسری لہر کے انتباہ کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے اس طرح کی کوئی غفلت نہیں کی جاسکتی کیونکہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے انتباہ کے مطابق کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران ریاست میں بچوں کی بڑی تعداد متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے حکومت کے محکمہ تعلیم کو ماہرین تعلیم کی جانب سے تجاویز روانہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ وہ تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی باضابطہ کلاسس کے آغاز کی اجازت فراہم نہ کرے اور جون تا اگسٹ کے دوران باضابطہ کلاسس کے انعقاد سے اجتناب کی تاکید کی جائے ۔بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں میں باضابطہ کلاسس کے آغاز کے سلسلہ میں خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کے علاوہ ماہرین تعلیم کے ہمراہ لاک ڈاؤن کے اختتام کے بعد اجلاس طلب کرتے ہوئے ان سے مشاورت اور حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ سے واقف کروانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق محکمہ تعلیم نے ماہ جون سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے فیصلہ کو موخر کرنے پر غور کرنا شروع کردیا اور کہا جارہا ہے کہ اگر ماہ جون سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کا فیصلہ کیا بھی جاتا ہے تو ایسی صورت میں باضابطہ کلاسس کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔