تلنگانہ میں ایس سی طبقات کی زمرہ بندی کیلئے ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن

   

بی سی طبقات کے سماجی و معاشی سروے کو 60 دن میں مکمل کرنے کا فیصلہ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا کابینی سب کمیٹی کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد۔/9 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ایس سی طبقات کی زمرہ بندی کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیا۔ حکومت نے ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس سی زمرہ بندی پر قائم کی گئی کابینی سب کمیٹی نے زمرہ بندی پر عمل آوری کیلئے ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن کے قیام کی سفارش کی تھی۔ چیف منسٹر نے آج سکریٹریٹ میں اجلاس منعقد کیا جس میں ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی، دامودھر راج نرسمہا، سریدھر بابو، ڈی انوسیا سیتکا، پونم پربھاکر، بی سی کمیشن کے صدرنشین جی نرنجن، حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشوراؤ، چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی، چیف منسٹر کے اسپیشل سکریٹری وی شیشادری، ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی، سکریٹری لاء ڈپارٹمنٹ آر تروپتی، چیف منسٹر کے سکریٹریز مانک راج، شاہنواز قاسم اور چیف منسٹر کے اسپیشل سکریٹری اجیت ریڈی نے شرکت کی۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ایس سی زمرہ بندی پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن کے ذریعہ اندرون 60 دن رپورٹ حاصل کرنے کی چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہدایت دی۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ریاست میں ایس سی زمرہ بندی پر نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ایس سی زمرہ بندی کے علاوہ بی سی طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کا جائزہ لیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پنجاب اور ٹاملناڈو میں ایس سی زمرہ بندی پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہریانہ میں اس سلسلہ میں کئے گئے اقدامات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ کابینی سب کمیٹی کے ارکان نے چیف منسٹر کو کابینی سب کمیٹی کی سفارشات سے واقف کرایا۔ اجلاس میں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیشن سے 60 دن میں رپورٹ حاصل کی جائے گی۔ ایس سی طبقات کی آبادی کے بارے میں 2011 مردم شماری کی بنیاد پر زمرہ بندی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ تمام محکمہ جات جوڈیشیل کمیشن کو درکار تفصیلات فراہم کریں۔ کابینی سب کمیٹی نے زمرہ بندی کے علاوہ ذات پات پر مبنی مردم شماری اور طبقات کی ری گروپنگ کے بارے میں حکومت کو سفارشات پیش کی ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی سی کمیشن کو ہدایت دی کہ بی سی طبقات کی سماجی اور معاشی صورتحال کا سروے بہار، کرناٹک اور دیگر ریاستوں کی طرز پر کیا جائے۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین جی نرنجن نے اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے فیصلہ کی اپیل کی۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین کی درخواست پر پلاننگ ڈپارٹمنٹ کی خدمات فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سینئر آئی اے ایس عہدیدار کی نگرانی میں سروے کیا جائے۔ اس سلسلہ میں چیف سکریٹری شانتی کماری کو ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے بی سی طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کو 60 دن میں مکمل کرتے ہوئے 9 ڈسمبر سے قبل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہاکہ سروے کی تکمیل کے بعد مجالس مقامی کے انتخابات کرائے جائیں گے۔1