تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابات کا بگل بج چکا ہے ۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول کی اجرائی عمل میں آچکی ہے ۔ 11 فبروری کو رائے دہی ہوگی اور 13 فبروری کو انتخابی نتائج کا اعلان کردیا جائے گا ۔ ریاست میں پنچایت انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوچکا تھا اور اب بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں یہ بات طئے ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول گرم ہوجائے گا ۔ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی اور شدت پیدا ہوجائے گی ۔ سیاسی جماعتیں ویسے تو اپنی انتخابی تیاریوں کا پہلے ہی آغاز کرچکی ہیں اور پارٹی قائدین اور کارکنوں کو سرگرم کردیا گیا ہے اور اب انتخابی شیڈول اور اعلامیہ کی اجرائی کے بعد ریاست بھر میں انتخابی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہوچکا ہے ۔تلنگانہ میں سیاسی ماحول پہلے ہی سے گرم دکھائی دے رہا تھا اور اب بلدیاتی انتخابات کے دوران یہ ماحول مزید گرم ہوجائے گااور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی اور قائدین مزید جارحانہ تیور اختیار کریں گے ۔ ریاست میں پہلے سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کو پولیس کی جانب سے فون ٹیاپنگ معاملہ میں پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا گیا تھا ۔ پھر بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ کی طلبی ہوئی ۔ دونوں سے پوچھ تاچھ کے بعد بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ سنتوش کمار سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی ہے جس کے بعد کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان الزامات و جوابی الزامات اور لفظی تکرار میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ بی آر ایس قائدین کی جانب سے لگاتار الزامات عائد کئے جا رہے ہیں کہ سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹڈ کے ٹنڈرس کی اجرائی میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور ایک بڑا اسکام کیا گیا ہے ۔ کانگریس پارٹی اس الزام کی تردید کرتی ہے ۔ خود ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر ملوبٹی وکرامارکا نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کا سیاسی کیریئر چار دہوں پر محیط ہے اور یہ کیرئیر بے داغ رہا ہے ۔ انہوں نے کبھی بھی عوامی زندگی میں بدعنوانیوں کا سہارا نہیںلیا ہے ۔ بی آر ایس قائدین لگاتار الزام تراشی کرتے ہوئے چیف منسٹر اور ان کے رفقاء کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ مسائل اب بلدیاتی انتخابات میں موضوع بنائے جانے کا بھی امکان ہے ۔
بی آر ایس قائدین لگاتار یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں فون ٹیاپنگ جیسا کوئی کام نہیں ہوا ہے ۔ ان کا دعوی ہے کہ انتقامی جذبہ کے تحت انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کانگریس قائدین کا دعوی ہے کہ بی آر ایس دور میں اہمس یاسی قائدین اور عہدیداروں کے فون ٹیپ کئے گئے ہیں۔ اس طرح ہر دو جانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور خود پر عائد الزامات کی نفی کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہ مسئلہ انتخابی ماحول کو مزید گرمانے کا باعث بن سکتا ہے اور سیاسی قائدین ایک دوسرے کو نشانہ بنانے سے گریز نہیںکریں گے ۔ اس کے علاوہ بی آر ایس قائدین کی جانب سے حکومت پر انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل کا مسئلہ بھی موضوع بنایا جاسکتا ہے اور پہلے ہی سے یہ لگاتار دعوے کئے جا رہے ہیں کہ کانگریس نے اپنے دو سال کے اقتدار میں عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے دو سال میں 62 ہزار سرکاری نوکریاں دینے ‘ آر ٹی سی بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کرنے ‘ مفت برقی سربراہی اور پانچ سو روپئے میں گیس سلینڈرفراہم کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ دعووں اورج وابی دعووں اور الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے اور یہی سلسلہ بلدیاتی انتخابات میں بھی جاری رہنے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ہر جماعت خود کے بہتر ہونے اور مخالفین کے ناکارہ ہونے کے دعوے کرتے ہوئے انتخابی میدان میں قسمت آزمائی کی کوشش کرے گی ۔
جہاں تک بلدیاتی انتخابات کا سوال ہے تو اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں مقامی مسائل زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ عوام کا کو بھی اس بات کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے مسائل کی یکسوئی ممکن ہوسکے ۔ ان کیلئے ترقیاتی اقدامات کی اہمیت ہونی چاہئے ۔ سیاسی جماعتوں کے پروپگنڈہ اورا لزامات و جوابی الزامات کا شکار ہوئے بغیر ریاست کے رائے دہندوں کو اپنے ووٹ کا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ بنیادی سطح سے مسائل کی یکسوئی کا ریکارڈ رکھنے اور بہتر منصوبے پیش کرنے والوں کو موقع دیا جانا چاہئے اور کسی بھی طرح کے پروپگنڈہ یا کسی قسم کی لالچ وغیرہ کا شکار ہوئے بغیر فیصلہ کرنا چاہئے ۔