تلنگانہ میں بی جے پی قائدین کے دورے

   

Ferty9 Clinic

ریاست تلنگانہ میں بی جے پی قائدین کو اپنا سیاسی مستقبل تابناک نظر آنے لگا ہے اور اسی وجہ سے بی جے پی کے کئی مرکزی قائدین اور مختلف ریاستوں کے چیف منسٹروں کے دوروں میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں آر ایس ایس کا سہ روزہ اجلاس بھی منعقد کیا گیا ہے ۔ ریاست میں حالانکہ حکومت نے ایک جی او جاری کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے ۔ اسکولس اور تعلیمی اداروں وغیرہ کو بند کردیا گیا ہے ۔ نمائش کو منسوخ کردیا گیا ہے اس کے باوجود ریاستی حکومت نے بھی آر ایس ایس کے سہ روزہ اجلاس کی اجازت دی جس میں سینکڑوں افراد ایک مقام پر جمع ہوئے ہیں۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں ریاست سے چار ارکان پارلیمنٹ کی کامیابی نے بی جے پی کے حوصلے بلند کردئے تھے ۔ اس کے علاوہ دو ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ اس نے حضور آباد اور دوباک میں جیت درج کرنے کے بعد جارحانہ تیور اختیار کرلئے ہیں اور وہ سمجھتی ہے کہ شدت کے ساتھ مہم چلاتے ہوئے ریاست میں وہ اقتدار حاصل کرسکتی ہے ۔ کچھ سیاسی مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بی جے پی کو جو سیاسی عروج ہے وہ تلنگانہ میں زیادہ عرصہ نہیں ہوسکتا ۔ چار ارکان پارلیمنٹ کی جیت بی جے پی کی نہیں بلکہ ملک میں عام انتخابات کی لہر کا اثر تھی ۔ اسی طرح دوباک میں حالانکہ بی جے پی نے جیت درج کی لیکن اس میں بھی آر ایس ایس کا اہم رول تھا اور حضور آباد میں ایٹالہ راجندر کی شخصی جیت تھی ۔ بی جے پی اس موقع کا بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے اپنی مہم میں تیزی پیدا کرچکی ہے ۔ مرکزی قائدین مسلسل ریاست کے دورے کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس بھی یہاں بی جے پی کیلئے سرگرم ہوگئی ہے ۔ کئی ریاستوں کے چیف منسٹرس بھی دورے کر رہے ہیں۔ مرکزی وزراء سرکاری تقاریب میں الگ سے شرکت کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے تیور جارحانہ ہوگئے ہیں اور ٹی آر ایس بھی اس کا سختی سے جواب دینے پر اتر آئی ہے ۔ حالانکہ ٹی آر ایس کو بی جے پی کی تنقیدوں کا ہر موقع پر جواب دینے سے گریز کرنے بھی ضرورت ظاہر کی جا رہی ہے ۔
بی جے پی کیلئے صورتحال اتنی آسان نہیں ہے جتنی بی جے پی سمجھ رہی ہے ۔ بی جے پی کیلئے دوہری مشکلات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کا ساری ریاست میں بیک وقت کوئی مستحکم وجود نہیں ہے ۔ وقتی طور پر کچھ حلقوں میں پوری طاقت جھونک کر بی جے پی نے دو حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ جب ساری ریاست میں بیک وقت انتخابات منعقد ہونگے تو بی جے پی ساری ریاست میں اپنی طاقت جھونکنے کے موقف میں نہیں ہوگی ۔ اس کے علاوہ مرکزی وزراء جب سرکاری تقاریب میں شرکت کیلئے ریاست کا دورہ کرتے ہیں تو وہ ٹی آر ایس حکومت کی مختلف اسکیمات کی ستائش کرتے ہیں۔ ریاست کی ترقی کی تعریف کی جاتی ہے ۔ ریاست کی کئی اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہیںدوسری ریاستوں کیلئے مثال بھی قرار دیا جاتا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی کیلئے مرکزی وزراء کی تعریفوں کو روکنا ممکن نہیں ہے اور دوسری جانب خود اگر الزامات عائد کرتی ہے تو اس کا جواز پیش کرنا مشکل ہوجائیگا ۔ بی جے پی اس صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے محض سیاسی گہما گہما والی کیفیت پیدا کرتے ہوئے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ہمیشہ اور تقریبا تمام ریاستوں میں اس کا وطیرہ رہا ہے لیکن یہ حکمت عملی کئی ریاستوں میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔ اس کی مثال مغربی بنگال میں ہوئے اسمبلی انتخابات سے ملتی ہے جہاں بی جے پی نے ساری طاقت جھونک دی تھی اور سارے قائدین ریاست کے دورے کر رہے تھے اس کے باوجود پارٹی کو وہاںشکست ہوئی ۔
اس کے علاوہ بنگال میں بی جے پی نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی بھی ہر ممکن کوشش کی تھی ۔ بنگال میں بھی بی جے پی نے اسمبلی انتخابات سے دو سال قبل سے ہی ماحول بگاڑنا شروع کردیا تھا ۔ گورنر کو استعمال کرتے ہوئے گہما گہمی اور نراج کی کیفیت پیدا کی گئی تھی لیکن بی جے پی وہاں کامیاب نہیں ہو پائی ہے ۔ تلنگانہ کا بھی جو سیاسی ماحول ہے اس میں بھی کچھ تبدیلیوں کے آثار دکھائی دے رہے ہیں اور خود ٹی آر ایس کی جانب سے مختلف امکانات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے ۔ ایسے میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بی جے پی کے جارحانہ تیور اور ہنگامہ آرائی کی سیاست کا اسے فائدہ ہوگا یا نہیں۔ تاہم بی جے پی نے اپنے ارادے واضح کرتے ہوئے اپنی مہم کا باضابطہ آغاز تو کردیا ہے ۔