تلنگانہ میں بی جے پی کو مستحکم بنانے کی کوششوں میں تیزی

   

Ferty9 Clinic

ذات پات اور طبقاتی سیاست کا بھی جائزہ، چیف منسٹر طبقہ سے صدر کا انتخاب متوقع، مرلی دھر راؤ

حیدرآباد ۔ 4 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے استحکام کی کوششوں کو تیز کررہی ہے اور مشن 2023 کے تحت کئے جانے والے اقدامات میں ریاست میں ذات پات اور طبقاتی سیاست کا بھی جائزہ لیا جانے لگا ہے اور اس پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بی جے پی چیف منسٹر تلنگانہ کی برادری سے تعلق رکھنے والے اپنے قائد کو پارٹی کے ریاستی صدر کے عہدہ پر نامزد کرسکتی ہے۔ مسٹر مرلی دھر راؤ جنرل سیکریٹری تلنگانہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے گذشتہ یوم ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ کی صدارت کے دعویدار ہیں کیونکہ ان کا تعلق ویلماں طبقہ سے ہے جس سے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا بھی تعلق ہے۔ ان کی جانب سے پیش کئے جانے والے دعوے کے بعد یہ کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کی جاری رکنیت سازی مہم کے دوران یہ دیکھاجا رہاہے کہ کونسی برادری اور طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام کی پارٹی میں شمولیت ہورہی ہے اور کس طبقہ کے افراد بی جے پی سے قربت اختیار کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے سربراہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے بے خوف و خطر انتخابات میں مقابلہ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائد مسٹر مرلی دھر راؤ ڈسمبر میں منتخب ہونے والے تنظیمی امور کے انتخابات میں تلنگانہ یونٹ کی صدارت کے اہم دعویداروں میں شامل ہوچکے ہیں کیونکہ انہوں نے ریاست میں رکنیت سازی کے اعداد وشمار کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو فروغ دینے کے سلسلہ میں کی جانے والی منصوبہ بندی و حکمت عملی کے سلسلہ میں پارٹی ہائی کمان کورپورٹ روانہ کردی ہے

اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں اس عہدہ پر نامزد کیا جائے تاکہ وہ ہر محاذ پر چیف منسٹر تلنگانہ سے مقابلہ کرسکیں۔ذرائع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی اعلی قیادت کی جانب سے تلنگانہ یونٹ کی صدارت متحرک قائدین کے سپرد کرتے ہوئے پارٹی کو کامیاب بنانے کیلئے جدوجہد کرنی ہے اسی لئے پارٹی نے بھی ہر محاذ پر تلنگانہ راشٹر سمیتی اور حکومت تلنگانہ سے ٹکراؤ اختیار کرنے والے قائد کے انتخاب کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ مسٹر مرلی دھر راؤ واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں تلنگانہ میں کے سی آر کی حکومت کو بیدخل کرنے تک جدوجہد کرنی ہے اور وہ تلنگانہ سے ٹی آر ایس کو ختم کرنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ 2023 کے انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔