تلنگانہ میں تقررات کے مسئلہ پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ

   

چھ برسوں میں صرف 30 ہزار تقررات، کے سی آر کا نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ: انیل کمار
حیدرآباد۔ 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) آل انڈیا یوتھ فیڈریشن کے ریاستی سکریٹری انیل کمار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں مخلوعہ سرکاری و خانگی جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں وائٹ پیپر جاری کیا جائے۔ انیل کمار نے حکومت پر بے روزگار نوجوانوں سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انتخابات سے قبل مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن تشکیل حکومت کے بعد وعدے کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کے ٹی آر کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ ریاست میں 11,569 صنعتوں کے قیام کے ذریعہ 13 لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جائیدادوں پر تقررات کے لیے اعلامیہ کب جاری کیا گیا اور تقررات کا عمل کب مکمل ہوا اس کا جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ورنگل میں صنعتوں کے قیام کے وقت مقامی افراد کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن حکومت نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ کے سی آر نے ریاست بھر میں ایک لاکھ 7 ہزار سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک صرف 30 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب پانچ برسوں میں جب 30 ہزار جائیدادوں پر تقررات ہوئے تو پھر باقی 77 ہزار جائیدادوں پر تقررات کے لیے کتنے برس درکار ہوں گے۔ حکومت نے 33 اضلاع قائم کئے اور ریونیو ڈیویژنس بھی نئے تشکیل دیئے گئے لیکن روزگار کے مواقع فراہم نہیں ہوئے ہیں۔ بے روزگار نوجوان گزشتہ کئی برسوں سے ملازمتوں سے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ بھتے کا اعلان کیا گیا تھا اور 1800 کروڑ مختص کئے گئے لیکن آج تک اسکیم پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ لہٰذا نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔