سیلفی کا خطرناک رجحان 2022 میں 1568 قیمتی زندگیوں سے محروم
حیدرآباد ۔ 29 مارچ (سیاست نیوز) پانی میں موج مستی چھوٹے بچوں سے لیکر بڑوں تک تک تفریحی مشغلہ ہے۔ دیہی علاقوں میں تالابوں اور باؤلیوں میں تیرتے ہیں جبکہ شہروں میں سوئمنگ پول یا تالاب وغیرہ میں تیرتے ہیں پانی میں اترنے خواہ کتنی بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں چھوٹی سے لاپرواہی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ بعض اوقات تیراک بھی زندگیوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق سال 2022ء کے دوران ملک میں پانی سے متعلق غرقاب ہونے سے 38,503 اموات ہوئی ہیں جس میں ریاست تلنگانہ میں ہونے والے اموات کی تعداد 1568 ہے۔ ریاست میں اوسطاً روزانہ 4 سے زیادہ افراد پانی میں ڈوب جانے سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پیراکی سے عدم واقفیت کے باوجود پانی میں اترنا، آبی وسائل کی گہرائی کا اندازہ لگائے بغیر پانی میں اترنا، پانی میں بچوں کے اترنے پر بڑوں کا توجہ نہ دینا ایسی لاپرواہی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ چھوٹے بچوں کے معاملے میں گھروں میں بھی خطرہ پایا جاتا ہے۔ چاہے وہ بالٹی یا ٹوئٹی ہی کیوں نہ ہو پانی کو دیکھتے ہی بچے پرجوش ہوتے ہیں اور پانی کی طرف لپک پڑتے ہیں۔ پہلے ہاتھ پانی میں ڈالتے ہیں، پھر اپنا کنٹرول کھو دیتے ہیں اور پانی میں گرجاتے ہیں۔ ان کی ناک میں پانی آجاتا ہے اور وہ سانس نہیں لے پاتے۔ موسم گرما میں بالخصوص اسکولس اور کالجس کی تعطیلات کے دوران اکثر نوجوان تیرنے کیلئے تالابیں اور باؤلیوں کو پہنچ کر حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پانی کے مقامات پر سیلفی کا رجحان مزید خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا میں تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کیلئے نئے انداز میں تصویرکشی کی جارہی ہے۔ پیر پھسلنے اور دیگر غفلت اور لاپرواہی جان لیوا ثابت ہورہی ہے۔2