تلنگانہ میں سرمایہ کاری بی آر ایس اور بی جے پی قائدین کو ہضم نہیں ہورہی ہے

   

کانگریس رکن پارلیمنٹ ملوروی کا الزام،فلاحی اسکیمات پر سیاسی وابستگی کے بغیر عمل آوری

حیدرآباد۔/29 جنوری، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ملوروی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور نریندر مودی حکومت ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دستور ہند کے خلاف کام کررہی ہے۔ دستور اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے کانگریس قائد راہول گاندھی ملک بھر میں مہم چلارہے ہیں۔ راہول گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز کرنے کی ذمہ داری چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی کو قبول کرنی چاہیئے۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ملوروی نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں سے مودی حکومت دستور میں تبدیلی کی سازش کررہی ہے اور حالیہ عرصہ میں دستور اور ڈاکٹر امبیڈکر کے خلاف مہم میں شدت دیکھی جارہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ کو ملک کے عوام سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ ڈاکٹر ملوروی نے کہا کہ بی جے پی دراصل ناتھورام گوڈسے کے نظریات پر کاربند ہے جبکہ کانگریس پارٹی گاندھی جی کے اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ ملک میں دستور اور جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد کا آغاز کیا ہے تاکہ ملک میں گاندھیائی نظریات پر عمل کیا جائے۔ ڈاکٹر ملوروی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ستائش کی جنہوں نے اقتدار کے پہلے سال انتخابی وعدوں کی تکمیل کرلی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے۔ کسانوں کو رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت جملہ 12000 کروڑ جاری کئے گئے۔ بی آر ایس نے دس برسوں تک کسانوں کو نظرانداز کیا لیکن آج سیاسی فائدہ کیلئے کسانوں سے جھوٹی ہمدردی کررہے ہیں۔ ڈاؤس میں تلنگانہ کے حق میں سرمایہ کاری سے متعلق 1.78 لاکھ کروڑ کے معاہدات کو ریونت ریڈی کی کامیابی قرار دیتے ہوئے ملوروی نے کہا کہ معاہدات کے ذریعہ 50 ہزار سے زائد نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس قائدین کو سرمایہ کاری کے معاہدات ہضم نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات پر عمل آوری سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کی جارہی ہے۔ ملوروی نے کہا کہ تلنگانہ بی جے پی قائدین کے رویہ کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی سے شکایت کی جائے گی۔1