تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں اور طبی سہولتوں کے حصول میں دشواریاں

   

ایمبولینس کا مریض کو ایک دواخانہ سے دوسرے دواخانہ منتقل کرنے سے انکار، مریض کیلئے بیڈ اور ڈاکٹرس کی عدم سہولت
حیدرآباد۔21۔ مئی ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں اور طبی سہولتوں کے حصول میں ہونے والی دشواریاں اب سوشل میڈیا پر تیزی سے گشت کر رہی ہیں۔ شہر حیدرآباد میں حکومت کی ایمبولنس خدمات کے سلسلہ میں ایک مریض نے ہونے والی مشکلات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ 108 پر فون کرنے کے بعد 40منٹ تک ایمبولنس کا انتظار کرنا پڑا جو کہ قریبی سرکاری دواخانہ پہنچانے کے لئے کارآمد ثابت ہوئی لیکن دواخانہ میں مریض کا معائنہ کرتے ہوئے فوری طور پر مریض کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کرنے کی ہدایت دی لیکن مذکورہ ایمبولنس ڈرائیور نے مریض کو گاندھی ہاسپٹل منتقل کرنے سے انکار کرتے ہوئے دوبارہ 108 کال سنٹر کو فون کرنے کا مشورہ دیا جس پر مریض کے رشتہ دار نے کال سنٹر سے رابطہ کرتے ہوئے نہ صرف صورتحال سے واقف کروایا بلکہ طبی مرکز پر موجود نرس نے بھی صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے مریض کی فوری منتقلی کا مشورہ دیا لیکن کال سنٹر سے بات کرنے والے نمائندے نے واضح کردیا کہ جو نظام کام کر رہا ہے وہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا بلکہ دوسری ایمبولنس کوذمہ داری دی گئی ہے اور وہ راستہ میں ہے۔ ریاست میں نظام صحت کی حالت سے متعلق تفصیلات پیش کرنے والے مریض کے رشتہ دار نے بتایا کہ جس وقت مریض کے ساتھ گاندھی ہاسپٹل پہنچا تو اس وقت گاندھی ہاسپٹل کے ’ایمرجنسی وارڈ‘ میں کوئی بستر دستیاب نہیں تھا اور جو ڈاکٹرس تھے وہ تمام مصروف تھے اور مریض کے معائنہ کے بعد جب دواخانہ کے عملہ نے مریض کا MRI کروانے کی تجویز پیش کی تو اس وقت ایک نئے مسئلہ کا سامنا مریض کے رشتہ دار کو کرنا پڑا کیونکہ مریض کے مطابق اسٹریچر کے حصول کے لئے ’موبائیل ‘ فون ڈپازٹ کرنا پڑتا ہے لیکن ان سے موبائیل نہیں لیا گیا اور 30منٹ کے لئے اسٹریچر دیا گیا جبکہMRI کا عمل مکمل ہونے تک گاندھی ہاسپٹل میں مریض کو ایک گھنٹہ سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔محکمہ صحت کی جانب سے دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآبادکے علاوہ ریاست کے بیشتر تمام اضلاع میں سرکاری دواخانوں میں اعلیٰ معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لیکن درحقیقت سرکاری دواخانوں کی صورتحال کے علاوہ چند یوم قبل 108 ایمبولنس کو دھکامارتے ہوئے گشت کرنے والے ویڈیو سے ریاست میں سرکاری طبی سہولتوں کی حالت کا انکشاف ہونے لگا ہے جنہیں فوری طور پر بہتر بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔سرکاری دواخانوں کی حالت کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں حکومت کے اقدامات کے ساتھ ریاست میں ایمبولنس خدمات کو بہتر اور ’ایمرجنسی ‘ خدمات کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے اضلاع میں مریضوں کو بہتر سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جاسکے ۔ شہریوں کا سوال ہے کہ جب خانگی ایمبولنس بروقت پہنچ سکتی ہے تو 108 خدمات کے پہنچنے میں تاخیر کیوں ہوتی ہے !متحدہ یاست آندھرا پردیش کے علاوہ تقسیم ریاست کے بعد بھی سرکاری ایمبولنس خدمات کو بہتر اور معیاری بنائے رکھنے کے سلسلہ میں متعدد اقدامات کئے جاتے رہے جس کے نتیجہ میں سرکاری دواخانوں میں مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا تھا لیکن گذشتہ دو برس کے دوران ریاست تلنگانہ کے سرکاری دواخانوں میں حالت ابتر ہونے کی شکایات موصول ہونے کے علاوہ ایمبولنس خدمات کی فراہمی میں پیش آنے والی مشکلات کی بھی شکایات مل رہی ہیں۔3