تلنگانہ میں شراب کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ

   

جرائم کی شرح میں اضافے کے لیے حکومت ذمہ دار، کانگریس ترجمان اندرا شوبھن کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 2 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کی ترجمان اندرا شوبھن نے ریاست میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصہ میں جرائم کی شرح میں اضافے کے لیے شراب کی فروخت کو عام کرنا اہم وجہ ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اندرا شوبھن نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے بارس کو شراب کی فروخت کے علاوہ خصوصی روم کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ گائوں گائوں میں بیلٹ شاپس قائم کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق 22 اضلاع میں غیر قانونی فروخت 17952 مقدمات درج کئے گئے۔ سب سے زیادہ وقارآباد ضلع میں پرگی پولیس اسٹیشن کے تحت درج کئے گئے ہیں۔ جن کی تعداد 8233 ہے۔ محبوب نگر میں 1022، جگتیال 783، رنگاریڈی 784، ونپرتی 492، سنگاریڈی 889، کریم نگر 722، سدی پیٹ 419، سکندرآباد 153، نظام آباد 216 اور میڑچل میں 280 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ متحدہ آندھراپردیش میں 2011ء کی مردم شماری کے مطابق 8 کروڑ 50 لاکھ کی آبادی میں 23 اضلاع میں شراب کی فروخت کے ذریعہ حاصل ہونے والی آْمدنی آج کی آمدنی سے کم ہے۔ 2008-09 میں 4888 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی۔ 2009-10 میں 5594 کروڑ، 2010-11ء میں 6512 کروڑ اور 2014ء میں 9890 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ 2014ء میں تلنگانہ کی تشکیل میں 2019ء تک 375 لاکھ کی آبادی سے پہلے سال 10 ہزار 800 کروڑ کی آمدنی ہوئی جو 2015-16ء میں بڑھ کر 12706 کروڑ ہوگئی۔ ہر سال شراب کی فروخت سے آمدنی میں اضافہ ہوا۔ 2018-19ء میں یہ اضافہ 20859 کروڑ تک پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شراب کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ اندرا شوبھن نے کہا کہ دیگر ریاستوں میں شراب سے آمدنی کا تقابل کیا جائے تو تلنگانہ سرفہرست ہے۔ گزشتہ 5 برسوں میں 65 فیصد آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت شراب کی فروخت کے ذریعہ خزانے کو بھرنا چاہتی ہے جبکہ حکومت کی ذمہ داری فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات پر عمل آوری ہے۔ قومی اور ریاستی شاہراہوں پر شراب کی دکانات کی اجازت میں قواعد کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دشا قتل کے واقعہ کے باوجود حکومت نے شراب کی فروخت پر کنٹرول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی شراب کی فروخت کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔