عبوری بجٹ کے مقابلے مکمل بجٹ میں 35 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔ 8 ڈسمبر (این ایس ایس) کانگریس کے سینئر لیڈر محمد علی شبیر نے ریاست تلنگانہ میں معاشی بحران پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی طرف سے تاخیر سے کئے گئے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ چیف منسٹر رواں مالیاتی سال کے آٹھ ماہ گذرنے کے بعد معاشی سست روی کے اثرات کو محسوس کیا۔ حالانکہ ساری دنیا کئی ماہ سے اس معاشی سست روی پر تشویش ظاہر کررہی ہے۔ شبیر علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ معاشی سست روی کے اثرات نہ ہونے کے غلط دعوے کررہے تھے، لیکن رواں سال ستمبر میں بالآخر ریاستی حکومت نے 2019-20 ء کا مکمل بجٹ پیش کیا جس میں مصارف میں زائد از 30 فیصد کٹوتی کی گئی حالانکہ رواں سال 22 فروری کو 182,017 کروڑ روپئے پر مشتمل عبوری بجٹ پیش کیا گیا تھا لیکن مکمل بجٹ صرف 146,492 کروڑ روپئے پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ سالانہ مصارف میں 35,525 کروڑ روپئے کی کٹوتی کی گئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت اب 1.46 لاکھ کروڑ روپئے بھی خرچ کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ شبیر علی نے کہا کہ چیف منسٹر نے تلنگانہ کو فاضل بجٹ والی ریاست قرار دیتے ہوئے بھاری نقصان پہونچایا۔