تلنگانہ میں معاشی بحران کی صورتحال ‘ محکمہ فینانس میں کئی بلز زیر التواء

   

بجٹ کی عدم موجودگی کے سبب عہدیدار تاخیر کے ذریعہ حالات کو قابو میں کرنے کوشاں
حیدرآباد۔29۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ معاشی بحران کی سمت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور محکمہ فینانس زیر التواء بلوں کی منظوری میں تاخیر کے ذریعہ صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ محکمہ فینانس میں زائد 2000 فائیلیں زیر التواء ہیں اور ان کی یکسوئی میں عہدیدار بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ کئی فائیلوں کو محکمہ جاتی پوچھ تاچھ اور تفتیش کے نام پر واپس روانہ کیا جا رہاہے اور جن فائیلوں کو مکمل کرکے واپس کر چکے ہیں ان کی تعداد بھی اب عہدیداروں کو تشویش میں مبتلاء کرنے لگی ہے۔ذرائع کے مطابق ریاست کے خزانہ پر بوجھ بالخصوص فلاحی اسکیمات پر خرچ و حصول اراضیات کیلئے رقومات سے کئی کنٹراکٹرس کے بل زیر التواء ہیں جن کی منظوری کیلئے متعدد مرتبہ ان محکمہ جات کو روانہ کیا جا رہاہے جنہوں نے خدمات حاصل کی ہیں۔ زیر التواء فائیلوں کے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ نہ ہونے کی بناء پر ان کے ریلیز آرڈرس جاری نہیں کئے جا رہے ہیں کیونکہ اگر BROsجاری کردئے گئے تو ان رقومات کی اجرائی لازمی ہوجاتی ہے اسی لئے فائیلوں کی یکسوئی کو طول دینے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ فائیل کی یکسوئی میں تاخیر ہوسکے ۔ عہدیداروں کے مطابق جو فائیلس زیر التواء ہیں ان میں اوورسیز اسکالرشپس ‘ آؤٹ سورسنگ ملازمین کے فوائد ‘ بعض عہدیداروں کی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد خدمات میں توسیع ‘ ملازمین کی سبکدوشی کے فوائد سے متعلق فائیلوں و کنٹراکٹرس کے بلز سے متعلق فائیلیں شامل ہیں۔حکومت کے دعوے کے مطابق محکمہ فینانس ہر ماہ درکار فنڈس کی اجرائی کو یقینی بنانے اقدامات کر رہا ہے لیکن حسب وعدہ بقایاجات کی اجرائی میں تاخیر ہورہی ہے کیونکہ بجٹ کے دوران آمدنی و خرچ کا جو منصوبہ تیار کیاگیا تھا اس کے مطابق اخراجات کو یقینی بنانے و آمدنی میں بہتری کی کوشش کی جا رہی ہے۔محکمہ مال کے حکام کا کہناہے کہ محکمہ فینانس پر جو بوجھ عائد ہو رہا ہے اس کے خاتمہ کیلئے ہر ماہ 3000 کروڑ درکار ہیں ۔ طلبہ ‘ ملازمین ‘ سبکدوش ملازمین و دیگر بلز کا جائزہ لیں تو جملہ حکومت پر 10 ہزار کروڑ کے بقایا جات ہیں جو اداشدنی ہیں ۔ 10 ہزار کروڑ کے بقایا جات کے علاوہ ہر ماہ خرچ کے متعلق آمدنی میں اضافہ کی ضرورت ہے جو کہ ممکن نہیں ہے۔3/k/b