تلنگانہ میں موسم سرد مگر سیاسی سرگرمیاں گرما گرم

,

   

= بی آر ایس اور بی جے پی میں سرد جنگ، امیت شاہ نے میدان سنبھال لیا، بنڈی سنجے دہلی پہنچ گئے
18 = جنوری کو کھمم میں بی آر ایس کا جلسہ عام ، اسی دن سابق ایم پی سرینواس ریڈی کے بی جے پی میں شامل ہونے کا امکان

حیدرآباد۔10۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاسی سرگرمیاں سرد موسم میں اچانک گرم ہوگئی ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کھمم میں بی آر ایس کا پہلا جلسہ عام منعقد کرتے ہوئے ہم خیال جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرتے ہوئے قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف محاذ تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری جانب بی جے پی کھمم کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی اور بی آر ایس کے دوسرے قائدین کو بی جے پی میں شامل کرتے ہوئے بی آر ایس کو سیاسی جھٹکہ دینے کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ عہدوں سے دور رکھنے اور پارٹی کے تنظیمی و سرکاری پروگرامس میں اہمیت نہ دینے پر سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی ناراض ہیں اور پارٹی کی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو دور رکھا ہے ۔ ضلع کھمم بالخصوص حلقہ لوک سبھا کھمم کے تمام اسمبلی حلقوں میں اپنے حامیوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے حکومت اور بی آر ایس قیادت کو راست یا بالواسطہ تنقیدوں کا نشانہ بنارہے ہیں جس پر حکومت نے ان کی سیکوریٹی میں کمی کردی ہے۔ پی سرینواس ریڈی بی آر ایس سے ناراض ہیں اور بی جے پی قیادت سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی آر ایس 18 جنوری کو کھمم میں جلسہ عام منعقد کر رہی ہے ۔ اسی دن پی سرینواس ریڈی دہلی پہنچ کر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ بی آر ایس قیادت کو پی سرینواس ریڈی کی باغیانہ سرگرمیوں کا اندازہ ہوگیا ہے ۔ اس لئے چیف منسٹر کے سی آر نے پی سرینواس ریڈی کو پارٹی کی سرگرمیوں سے دور رکھا ہے ۔ کل چیف منسٹر نے پرگتی بھون میں ضلع کھمم کے پارٹی قائدین کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں پی سرینواس ریڈی کو مدعو نہیں کیا گیا ۔ پارٹی کے دوسرے قائدین کو بی جے پی میں شامل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی آر ایس کی سرگرمیوں کو تلنگانہ تک محدود کرنے کیلئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے میدان سنبھال لیا ہے ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کو دہلی طلب کرلیا ہے اور تلنگانہ کی تازہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بی جے پی میں شامل ہونے والے قائدین کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے ۔د وسری جانب بی آر ایس کے ناراض قائد پی سرینواس نے منگور میں آج اپنے حامیوں کا ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں بی آر ایس قیادت پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عہدے نہ دینے پر کم از کم انسان کو انسان کی نظر سے دیکھنا چاہئے ۔ اقتدار کے نشہ میں عوام کو فراموش کردینے والی جماعتیں ز یادہ دنوں تک اقتدار پر نہیں رہ سکتیں ۔ انہوں نے کہا کہ صرف کے ٹی آر سے تعلقات کے باعث وہ آج تک بے عزتی کو برداشت کرتے ہوئے بی آر ایس میں برقرار رہے۔ طلب کرنے پر مجھے سیکوریٹی نہیں دی گئی ۔ اب سیکوریٹی گھٹا دینے کے باوجود وہ دوبارہ طلب نہیں کریں گے ۔ میری سیکوریٹی کیلئے جو دو گن مین موجود ہیں، اس کو بھی واپس لے لینے کا حکومت کو مشورہ دیا ۔ میرے گارڈ فادر کھمم کے عوام ہیں اور وہ عوام کی رائے پر اپنے سیاسی مستقبل کا اعلان کریںگے۔ پی سرینواس ریڈی کے اجلاسوں میں موجود پوسٹرس اور فلیکسی میں کہیں بھی چیف منسٹر کے سی آر اور کے ٹی آر کی تصاویر نہیں ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ پی سرینواس ریڈی بی جے پی میں شامل ہونے کی تیار یاں کرلی ہیں۔ن