تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی SIR کا باقاعدہ آغاز

   

حیدرآباد میں انگریزی اور اضلاع میں تلگو فارمس کی تقسیم ۔ آن لائن فارم بھرنے کی بھی سہولت
حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں میں پہلے دن مکمل فارمس دستیاب نہیں ہوئے ۔ عملے کی بھی قلت کا سامنا
حیدرآباد : /25 جون (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کا جمعرات سے ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر گھر گھر سروے کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے ۔ یہ خصوصی مہم /24 جولائی تک جاری رہے گی ۔ جس کیلئے الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام ضروری انتظامات مکمل کرلئے گئے ۔ حیدرآباد میں انگریزی فارمس تقسیم کئے جارہے جبکہ دیگر اضلاع میں تلگو میں (Enumeration Forms) تقسیم کئے جارہے ہیں ۔ ضلع حیدرآباد میں 15 اسمبلی حلقہ ہیں مگر چہارشنبہ کی شام تک صرف 6 اسمبلی حلقوں کے فارمس موصول ہوئے تھے ۔ 15 اسمبلی حلقوں کیلئے BLOs 4062 کو تعینات کیا گیا ہے ۔ ان میں 500 بی ایل اوز نے ڈیوٹی میں حصہ لینے پر اپنے شک و شبہات کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن کمشنر جی ایچ ایم سی و ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر آر وی کرنن نے BLOs کو ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے پر صاف انکار کرتے ہوئے ڈیوٹی انجام نہ دینے والے ملازمین کو معطل کردینے کا انتباہ دیا ہے ۔ SIR کی مہم کو کامیاب بنانے کیلئے ریاست کے 33 ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسرس (DEOs) 119 الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس (EROs) 1882 اسسٹنٹ الیکشن رجسٹریشن آفیسر (AEROs) اور 3596 بی ایل او سوپر وائزرس کی نگرانی میں 35,985 (BLOs) میدان میں اترچکے ہیں ۔ گھر گھر سروے کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ فارم آن لائن بھی دستیاب کرائے جارہے ہیں ۔ ووٹر الیکشن کمیشن کے آفیشیل پورٹل (voters.eci.gov.in) پر جاکر اپنے رجسٹرڈ موبائیل نمبر یا ایپک (EPIC) کارڈ نمبر کے ذریعہ لاگ آن کرکے فارم آن لائن پُر کرسکتے ہیں ۔ تاہم یہ آن لائن سہولت صرف ان ووٹرس کیلئے دستیاب ہوگی جن کے نام ووٹر لسٹ اور آدھار کارڈ میں مکمل طور پر مطابقت رکھتے (میچ کرتے) ہیں اگر کسی ووٹر کو فارم بھرنے میں کوئی دشواری پیش آئے یا BLO ان کے گھر نہ پہنچ پائے تو وہ ٹول فری نمبر 1950پر کال کرکے رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں SIR مہم کا آغاز ہوگیا ہے ۔ تاہم پہلے ہی دن اس مہم کو انتظامی اور عملے کی سطح پر شدید مشکلات اور الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ایک طرف نوتشکیل شدہ کارپور یشنس میں عملے کی شدید قلت کی وجہ سے کمشنرس پریشان ہیں تو دوسری طرف جی ایچ ایم سی کے الیکشن ڈپارٹمنٹ نے واضح کردیا ہے کہ انتخابی ڈیوٹی سے کسی کو بھی چھوٹ نہیں دی جائے گی ۔ غیر حاضری کی صورت میں معطلی کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ عملے کی اس قلت پر قابو پانے کیلئے سنٹرل الیکشن کمیشن نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے کالجس کے (NCC) اور (NSS) کیڈٹس کو والینٹرس کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ 2