راہول گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کو منسوخ کردیا گیا

,

   

نئی دہلی ۔6؍اگست ( ایجنسیز)کانگریس قائدِ راہول گاندھی کے مجوزہ طلبہ پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ کو اس وقت دھچکہ لگا جب پریاگ راج کے کے پی کالج گراؤنڈ کی دیکھ بھال کرنے والے کیستھ پاٹھ شالا (کے پی) ٹرسٹ نے 8 اگست ہفتہ کو ہونے والے پروگرام کے لیے پہلے سے دی گئی اجازت واپس لینے کا اعلان کردیا۔ ٹرسٹ کے قائم مقام صدر جتیندر ناتھ چودھری نے بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے گذشتہ سال اپنے حکم میں ہدایت دی تھی کہ کے پی کالج کا میدان صرف کھیلوں اور تعلیمی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جائے۔ ان کے مطابق حالیہ بارش کے باعث گراؤنڈ میں پانی بھی جمع ہے، جس کی وجہ سے وہاں بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد محفوظ نہیں سمجھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو دی گئی اجازت ضلعی مجسٹریٹ کی منظوری سے مشروط تھی۔ ٹرسٹ کے مکتوب میں کہا گیا کہ کالج کے پرنسپل نے آگاہ کیا ہے کہ اس تاریخ پر دو تعلیمی اداروں کے طلبہ کی سرگرمیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔معزز ہائی کورٹ کے فیصلے اور موجودہ حالات کے پیشِ نظر بہتر ہوگا کہ پروگرام بارش کے موسم کے بعد تعطیلات کے دوران رکھا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔لہذا ان حقائق کی روشنی میں پہلے دی گئی اجازت افسوس کے ساتھ واپس لی جاتی ہے۔ آپ دفتر سے جمع کرائی گئی رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں۔راہول گاندھی اس پروگرام میں طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرنے والے تھے۔ کانگریس کے میڈیا ونگ کے سربراہ پون کھیڑا نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ راہول گاندھی سے خوفزدہ ہے۔ حکومت پارلیمنٹ کے اندر بھی ان سے ڈرتی ہے اور باہر بھی۔ لیکن یہ پروگرام ضرور ہوگا۔ اب کانگریس متبادل مقام کی تلاش میں ہے تاکہ راہول گاندھی کی طلبہ سے بات چیت کو طے شدہ تاریخ پر ہی منعقد کیا جاسکے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ امتحانی پرچہ لیک، بے روزگاری اور تعلیم سے متعلق مسائل نوجوانوں کے اہم ترین مسائل ہیں جبکہ حکمراں جماعت اور کانگریس کے درمیان ان موضوعات پر سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔