تلنگانہ میں پانچ خانگی یونیورسٹیز کی اجازت پر کانگریس کو اعتراض

   

Ferty9 Clinic

تعلیم کو تجارت بنانے کا الزام، آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔21۔ مئی(سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں پانچ خانگی یونیورسٹیز کے قیام کی اجازت سے متعلق فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اے آئی سی سی سکریٹری ومشی چند ریڈی نے الزام عائد کیا کہ تعلیم کو خانگیانے کے مقصد سے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو نظر انداز کرتے ہوئے کے سی آر حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ خانگی یونیورسٹیز کی منظوری دی ہے ۔ ریاست میں برسر اقتدار آنے کے لئے عوام سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن اس وعدہ پر آج تک عمل آوری نہیں ہوئی ہے ۔ سرکاری یونیورسٹیز جو مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے، انہیں نظر انداز کرتے ہوئے تعلیم کو تجارت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خانگی یونیورسٹیز کے قیام کے ذریعہ مخصوص اداروں کو لوٹ کھسوٹ کی اجازت دی جارہی ہے ۔ ومشی چند ریڈی نے کہا کہ 11 یونیورسٹیز وائس چانسلرس سے محروم ہیں۔ اسکولوں ، جونیئر کالجس اور ڈگری کالجس کے اساتذہ اور لکچررس کے تقررات نہیں کئے گئے لیکن اپنے قریبی اداروں کو یونیورسٹی کے قیام کی اجازت دے دی گئی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی وزیر ملا ریڈی سالانہ 360 کروڑ روپئے کی بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ ایسے شخص کو خانگی یونیورسٹی قائم کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ومشی چند ریڈی نے کہا کہ بوگس اداروں کو یونیورسٹی میں تبدیل کرتے ہوئے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کی جارہی ہے۔ خانگی یونیورسٹیز کے قیام کا مقصد غریبوں کو معیاری تعلیم سے محروم رکھنا ہے ۔ انہوں نے خانگی یونیورسٹیز کے فیصلے سے دستبرداری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس مسئلہ پر کانگریس احتجاج میں شدت پیدا کرے گی ۔