تلنگانہ میں کانگریس اور بی جے پی ایک دوسرے کو اہمیت دینے تیار نہیں

   

ٹی آر ایس ہی دونوں کے نشانے پر ۔ حکومت اور چیف منسٹر پر تنقیدوں کی حکمت عملی پر عمل پیرائی
حیدرآباد۔17۔مئی ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی خود کو ٹی آر ایس کا متبادل تصور کررہی ہیں اور دونوں کے قائدین کے نشانہ پر ٹی آر ایس اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا خاندان ہے۔ گذشتہ ہفتہ کانگریس قائدراہول گاندھی اور بی جے پی صدر جے پی نڈاکے دورۂ تلنگانہ پر دونو ںہی نے صرف ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس نے بی جے پی اور بی جے پی نے کانگریس کا تذکرہ تک مناسب نہیں سمجھا۔ اسی طرح مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورۂ حیدرآباد پر انہو ںنے بھی کے سی آر اور ٹی آر ایس کو نشانہ بنایا جبکہ کانگریس کو انتہائی غیر اہم تصور کرکے نظرانداز کردیا ۔ راہول گاندھی نے ریاستی حکومت کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے علاوہ حکومت کے ذمہ داروں کو نشانہ بنایا اور کسانوں کیلئے اعلانات کئے لیکن بی جے پی کو نظرانداز کردیا جبکہ جے پی نڈا نے بھی کانگریس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جبکہ بی جے پی بخوبی واقف ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس کو بھی استحکام ملنے لگا ہے اور عوام کا جھکاؤ کانگریس کی جانب دیکھا جا رہاہے۔ امیت شاہ نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور ان کے خاندان کے علاوہ حکومت کو نشانہ بنایا لیکن کانگریس پر تنقید نہیں کی۔ سیاسی ماہرین و مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں تلنگانہ راشٹر سمیتی کا خود کو متبادل تصور کر رہی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو تلنگانہ میں اہمیت دینے تیار نہیں ہے ۔ بی جے پی قائدین کا کہناہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی کا مقابلہ ٹی آر ایس سے ہے جبکہ کانگریس قائدین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ زمینی حقائق کا اندازہ ہونے کے سبب ہی بی جے پی مقابلہ سے فرار اختیار کر رہی ہے اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں بی جے پی کے نظریات کو فروغ نہیں ہوگا اسی لئے ٹی آر ایس کو صرف کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے خوف ہے۔ تلنگانہ میں دونوں جماعتوں کی تنقیدوںپر ٹی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ عوام نے کانگریس اور بی جے پی کو مسترد کردیا اور مستقبل میں بھی مستردکریں گے۔ کانگریس کی جانب سے مسلسل یہ الزام عائد کیاجا رہاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی بی جے پی سے ساز باز کرکے کانگریس کی مقبولیت کو گھٹانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ عوام اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ تلنگانہ کی تشکیل میں کانگریس نے جو کردار ادا کیا ہے وہ ہی تلنگانہ کی ترقی کو یقینی بناسکتی ہے۔م