تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے 30 یوم، متعدد اقدامات و اہم فیصلے

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی کی سرگرمیوں سے عہدیداران حیرت زدہ، حکومت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے پر توجہ

حیدرآباد۔7۔جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کو اقتدار حاصل کئے ہوئے ایک ماہ کا عرصہ گذرچکا ہے اور ایک ماہ کی حکومت کی کارکردگی کا مشاہدہ کیا جائے تو چیف منسٹر نے اپنے متعدد دورۂ دہلی کے باوجود ریاست کی سرگرمیوں سے بھی خود کو جوڑے رکھا اور اہم فیصلے کرتے ہوئے عہدیداروں کو حیرت میں مبتلاء کردیا۔ حکومت کی ایک ماہ کی کارکردگی اور شہر حیدرآباد کی ترقی کے سلسلہ میں منصوبہ بندی بالخصوص میٹرو ریل کو پرانے شہر کے ائیرپورٹ لیجانے کا فیصلہ کے علاوہ موسی ٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے اقدامات کی منصوبہ بندی کے علاوہ کئی اہم امور پر فیصلہ کئے جانے پر اعلیٰ عہدیداروں کاکہنا ہے کہ حکومت نے ایک ماہ کی کارکردگی کے دوران اپنی مثبت چھاپ چھوڑی ہے کیونکہ حکومت نے ابتدائی ایک ماہ میں سابقہ حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کو منظرعام پر لانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ اسمبلی کا نہ صرف اجلاس منعقد کیا بلکہ اجلاس کے دوران محکمہ برقی کے علاوہ ریاستی معاشی صورتحال پر وائٹ پیپر کی اجرائی کو یقینی بنایا گیا ۔ حکومت نے اقتدار حاصل کرنے کے ساتھ ہی کابینی وزراء کو ان کے قلمدانوں کے متعلق دیئے گئے اختیارات کے نتیجہ میں کابینی وزراء کی جانب سے اپنے طور پر اپنے محکمہ جات کے اجلاس منعقد کرتے ہوئے صورتحال کا نہ صرف جائزہ لیا جا رہاہے بلکہ حالات کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ 7 ڈسمبر کو لعل بہادر اسٹیڈیم میں حلف برداری کے بعد چیف منسٹر نے سیکریٹریٹ پہنچ کر اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ہی اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر تبادلوں کا فیصلہ کیا اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لئے عہدیداروں کو نئی ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے ریاست میں حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی سمت اہم پیشرفت کو یقینی بنایا گیا۔ 30 دن کے وقفہ کے دوران حکومت کی جانب سے 6ضمانتوں میں دو اسکیمات خواتین کے لئے مفت بس کے سفر کے علاوہ راجیو آروگیہ شری اسکیم کے تحت رقم کو 5لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپئے تک کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کے علاوہ دیگر ضمانتوں کے سلسلہ میں عوام سے درخواستوں کی وصولی کا عمل بھی مکمل کرلیاگیا ہے۔ تلنگانہ میں تشکیل تلنگانہ کے 10 سال بعد عوامی حکمرانی محسوس کی جانے لگی ہے اور خود عہدیدار اور سرکاری ملازمین یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں جمہوری طرز حکمرانی بحال ہوچکی ہے کیونکہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کی آزادی حاصل ہونے کے بعد اندرون ایک ماہ حکومت کے خلاف احتجاج بھی منظم کیا جاچکا ہے جس پر حکومت نے احتجاج کو کچلنے کے بجائے اظہار خیال کی آزادی کو یقینی بنانے اور آٹو ڈرائیورس کو احتجاج کی راہ ہموار کی ۔ علاوہ ازیں حکومت نے طویل عرصہ بعد سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کے کھاتوں میں 5 تاریخ سے قبل تنخواہ اور ان کے وظائف منتقل کرتے ہوئے ان کے چہروں پر خوشی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اے ریونت ریڈی نے اقتدار حاصل کرتے ہی سابقہ حکومت کی جانب سے گچی باؤلی تا ائیرپورٹ میٹرو ریل کے منصوبہ میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا اور اس میں ہونے والی پیشرفت کے سلسلہ میں اب تک 3جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے عہدیداروں کو فوری طور پر منصوبہ پر عمل آوری کے اقدامات کی ہدایا ت جاری کی ہیں۔ حکومت نے ایک ماہ کے دوران محکمہ جاتی ذمہ داریوں کو تبدیل کرتے ہوئے محکمہ جات کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے ہیں اور صنعتی پالیسی کے سلسلہ میں اجلاس منعقد کرتے ہوئے ریاست کی صنعتی و انفارمیشن ٹکنالوجی پالیسی کو سرمایہ کاروں کے موافق بناتے ہوئے ریاست کی ترقی کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے اس ایک ماہ کے دوران ریاست کے آئندہ بجٹ 2024-25 کی تیاری کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کے آئندہ بجٹ کی تیاری میں حقیقی اعداد و شمار پر مشتمل بجٹ کی تیاری کی ہدایات دی ہیں اور انہوں نے عہدیداروں پر واضح کیا کہ وہ اس طرح بجٹ تیار کریں کہ تلنگانہ کی تشکیل ابھی ہوئی ہے ۔اس ایک ماہ کے دوران ریاستی وزراء ملو بھٹی وکرمارک‘ کیپٹن این اتم کمار ریڈی ‘ مسٹر پونم پربھاکر‘ مسٹر پی سرینواس ریڈی ‘ مسز ڈی سیتا اکا‘ مسٹر جوپلی کرشنا راؤ کے علاوہ وزیرانفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر ڈی سریدھر بابو نے اپنے اپنے محکمہ جات کے عہدیداروںکے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے محکمہ کی حقیقی صورتحال کے متعلق آگہی حاصل کرنے کے علاوہ عوامی مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان وزراء نے مصروف ترین ایک ماہ کے دوران کالیشورم پراجکٹ کا دورہ کرتے ہوئے پراجکٹ میں پائی جانے والی خامیوں اور اس کی مکمل تفصیلات سے آگہی حاصل کرنے کے اقدامات کو بھی یقینی بنایا۔3