تلنگانہ میں کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کی راہ ہموار

   

مفاد عامہ کی درخواست ہائی کورٹ میں مسترد
حیدرآباد۔/8 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔ حکومت نے مختلف اضلاع میں کام کرنے والے کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کیلئے 6 فروری 2016 کو جی او 16 جاری کیا تھا۔ اس سلسلہ میں کارروائی بھی شروع کردی گئی تھی لیکن بیروزگار نوجوانوں جئے شنکر اور گوند ریڈی نے 2017 میں ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کی۔ سابق میں ہائی کورٹ نے 2017 میں حکومت کے جی او پر حکم التواء جاری کیا تھا جس کے نتیجہ میں باقاعدہ بنانے کا عمل روک دیا گیا۔ چیف جسٹس ستیش چندر مشرا اور جسٹس تکا رام پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اس معاملہ کی سماعت کی اور مفاد عامہ کی درخواست کو مسترد کردیا۔ عدالت نے کہا کہ سابق میں رِٹ پٹیشن کو مسترد کئے جانے کی وجوہات کا مفاد عامہ کی درخواست میں تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔ر