تلنگانہ میں کے سی آر خاندان کی بے روزگاری کے بعد نوجوانوں کو روزگار

   

اقامتی اسکولس کے اساتذہ اور لائبریرین کے تقرر نامے حوالے ، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں کے سی آر خاندان کے بے روزگار ہونے کے بعد بے روزگار نوجوانو ںکو روزگار حاصل ہورہا ہے۔ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے دور اقتدار میں اپنے فرزند کے واستو کے اعتبار سے سیکریٹریٹ کی تعمیر کروائی تھی اور اب چیف منسٹر کی کرسی پر ایک کسان کے بیٹے کو برداشت نہیں کرپا رہے ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج اقامتی اسکولوں کے اساتذہ اور لائبررین کے تقررات کے احکام حوالہ کرنے کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے 70 دن میں جو کام کئے گئے وہ سابقہ حکومت کے 10 سال کے دوران انجام نہیں دیئے جاسکے ۔ انہو ںنے بتایا کہ 2004میں حکومت نے جن اسکیمات کو شروع کیاتھا ان اسکیمات کا اب احیاء عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہو ںنے کسانوں کے قرض کی معافی ‘ آروگیہ شری کے علاوہ مفت برقی کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ان اسکیمات پر عمل آوری کی جا رہی ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت نے ریاست میں نوجوانوں کے تقررات کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت کے دور میں پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کے پرچہ سوالات زیراکس سنٹرس پر فروخت ہورہے تھے لیکن کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد یونین پبلک سروس کے امتحانات کے طرز پر تقررات کے اقدامات کر رہی ہے۔ چیف منسٹر نے بھارت راشٹرسمیتی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو روزگار دیئے جانے پر بی آر ایس قائدین تکلیف میں ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ ریاست میں کانگریس اقتدار میں آنے کے اندرون 75یوم 25 ہزار نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ حکومت کو اس بات کااحساس ہے کہ حصول تلنگانہ کے لئے نوجوانوں نے نہ صرف جدوجہد کی بلکہ اپنی جان قربان کرتے ہوئے علحدہ ریاست کی تشکیل میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار پر لانے میں بے روزگار نوجوانوں کا اہم کردا ر ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے کہا کہ بی آر ایس نے نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی سے گریز کرتے ہوئے اپنے خاندان کو فائدہ پہنچایا تھا۔ریونت ریڈی نے کے سی آر کی اسمبلی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 150 کیلو میٹر دور نلگنڈہ پہنچ کر کے سی آر حکومت پر تنقید کر رہے ہیں لیکن انہیں اسمبلی پہنچ کر مباحث میں حصہ لینے سے خوف ہے۔ اقامتی اسکولوں کے اساتذہ اور لائبریرین کے تقررات کے سلسلہ میں منعقدہ اس تقریب میں ریاستی وزراء مسٹر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ‘ مسٹر پونم پربھاکر ‘ مشیر حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی اور اقلیتی طبقات جناب محمد علی شبیر چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ ، محترمہ سانتھی کماری کے علاوہ دیگر قائدین موجود تھے۔3