تلنگانہ میں گھٹتی شرح پیدائش بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کا خطرہ

   

جاپان اور چین جیسا بحران ، آبادی کا توازن بگڑنے لگا ، پاپولیشن مینجمنٹ بڑا چیلنج
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل : تلنگانہ میں کم ہوتی شرح پیدائش اور بڑھتی عمر رسیدہ آبادی ایک نئے سماجی و معاشی بحران کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے ۔ جہاں وہ پالیسیاں جو کبھی آبادی پر قابو پانے کے لیے بنائی گئی تھیں ۔ اب خود ’ پاپولیشن مینجمنٹ ‘ کی ضرورت میں تبدیل ہورہی ہے ۔ جاپان اور چین جیسے ممالک کو درپیش عمر رسیدہ آبادی کا مسئلہ اب تلنگانہ کے قریب پہونچ رہا ہے کیوں کہ ریاست میں شرح پیدائش کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے اور مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا ہورہے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق کسی بھی ریاست میں آبادی کو مستحکم رکھنے کے لیے شرح پیدائش 2.1 فیصد ہونی چاہئے تاہم نیشنل فیملی ہیلت سروے کے مطابق تلنگانہ میں یہ شرح 1.7 فیصد تک گھٹ چکی ہے اور مستقبل میں یہ 1.5 فیصد تک پہونچنے کا اندازہ ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اوسطاً ہر جوڑا دو بچوں سے بھی کم بچے پیدا کرنے پر اکتفا کررہا ہے ۔ شہری علاقوں میں شرح پیدائش 1.8 فیصد جب کہ دیہی علاقوں میں 1.7 فیصد ریکارڈ کی گئی اور حیرت انگیز طور پر دیہی علاقوں میں بھی کمی کا رجحان واقع ہے ۔ سال 2019-2023 کے درمیان ریاست میں رجسٹر پیدائش میں 22.4 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جب کہ ملک کی دیگر ریاستوں جیسے اترپردیش اور بہار میں شرح پیدائش میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ قومی اوسط شرح تقریبا 2.0 فیصد کے مقابلے تلنگانہ میں یہ 1.5 سے 1.6 فیصد کے درمیان پہونچ چکی ہے اور اندازہ ہے کہ 2035 تک آبادی میں اضافہ تقریبا صفر ہوجائے گا ۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں آبادی کا ڈھانچہ اُلٹ سکتا ہے ۔ جہاں نوجوانوں کی تعداد کم اور بزرگوں کی تعداد زیادہ ہوجائے گی ۔ جس سے معیشت ، لیبر فورس اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس صورتحال کی کئی وجوہات بتائی جارہی ہیں ۔ جن میں خواتین کی تعلیم اور روزگار کے باعث دیر سے شادی ، بدلتا طرز زندگی ، ذہنی دباؤ ، بانجھ پن کے مسائل ، بچوں کی پرورش اور معیاری تعلیم کے بڑھتے اخراجات شامل ہیں ۔ کئی دہائیوں سے جاری خاندانی منصوبہ بندی کی مہم کے نتیجے میں ’ ایک یا دو بچے ‘ کا تصور معاشرے میں مضبوط ہوچکا ہے ۔ جس نے شرح پیدائش کو مسلسل نیچے لایا ہے ۔ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے اور آبادی میں توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے کیوں کہ آبادی میں کمی یا زیادتی دونوں ہی صورتوں میں معاشی ، سماجی اور سیاسی نظام پر غیر معمولی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔۔ 2/m/b