تلنگانہ میں 1.50 لاکھ کروڑ مالیت کی سرکاری اراضیات کلواکنٹلا گینگ سے آزاد

   

میاں پور زمین تنازعہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے حق میں، کے سی آر حکومت پر سنگین الزامات:ریونت ریڈی

حیدرآباد، 30 اکٹوبر ]سیاست نیوز[چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے واضح کیا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت سرکاری اراضیات کے تحفظ اور اراضیات پر ناجائز قبضوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ نئی دہلی کے دورے کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کے سی آر اور ان کے رفقاء پر شدید تنقید کی اور سنگین الزامات عائد کیے۔ چیف منسٹر نے انکشاف کیا کہ میاں پور اراضی تنازعہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے تلنگانہ حکومت کے حق میں فیصلہ آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلی بی آر ایس حکومت کے دوران میاں پور میں تقریباً 550 ایکڑ سرکاری اراضی کے ریونیو ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے اسے خانگی افراد اور اپنے قریبی افرادکے نام کر دیا گیا تھا، جس کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے ہے۔چیف منسٹر نے بتایا کہ جب وہ اپوزیشن میں تھے تب بھی اس زمین کی حفاظت کے لیے جدوجہد کی اور اقتدار میں آنے کے بعد سپریم کورٹ میں مضبوط دلائل پیش کر کے کیس جیت لیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ان زمینوں کا قبضہ حاصل کریں۔ چیف منسٹر نے آئی ایم جی اراضیات کے مقدمات میں بھی عدالت میں مضبوط موقف اختیار کرنے کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ایراولی میں فی الوقت سروے جاری ہے اور اس زمین کو سرکاری تحویل میں لیا جا رہا ہے۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیا کہ اب تک ریاست میں تقریباً 1.50 لاکھ کروڑ روپے مالیت کی سرکاری زمینوں کو کلواکنٹلا گینگ کے چنگل سے چھڑایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے رفقاء کو سرکاری اراضیات پر قبضے سے باز رہنے کی ہدایت دیں کیونکہ حکومت ہر ایک اراضی پر قبضے کی تفصیلی تحقیقات کروا رہی ہے۔2