تلنگانہ میں 4 فیصد مسلم تحفظات روسٹر پوائنٹس میں گھٹ کر 3 فیصد ہوگئے

,

   

چیف سکریٹری کی خاموشی معنی خیز، تصحیح شدہ روسٹر پوائنٹس پر راز کے پر دے، ملازمت میں ایک فیصد نقصان کا اندیشہ
حیدرآباد ۔25 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تعلیم اور روزگار میں کسی بھی قوم کی بہتر نمائندگی کے لئے تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں ۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک اس وعدہ کی تکمیل کیلئے عملی اقدامات ندارد ہیں۔ دوسری طرف متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کو فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کو خطرہ لاحق دکھائی دے رہا ہے ۔ اگرچہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہیں لیکن تعلیم و روزگار میں تحفظات پر عمل آوری جاری ہے ۔ حکومت نے مختلف محکمہ جات میں 80 ہزار سے زائد جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا اور اس کے لئے روسٹر پوائنٹس جاری کئے گئے جس کے مطابق تحفظات پر عمل کیا جاتا ہے۔ تلنگانہ اسٹیٹ اینڈ سب آرڈینیٹ سرویس رولز 1996 ء کے تحت ڈائرکٹ رکروٹمنٹ کیلئے جو روسٹر پوائنٹس جاری کئے گئے ، ان میں مسلم تحفظات 4 فیصد سے گھٹاکر 3 فیصد شامل کئے گئے۔ تقررات کا عمل روسٹر پوائنٹ کے مطابق مکمل کیا جاتا ہے اور حکومت کی نیت مسلمانوں کو 4 فیصد نمائندگی کے حق میں دکھائی نہیں دیتی ، لہذا روسٹر پوائنٹس میں صرف 3 فیصد تحفظات کو شامل کیا گیا ۔ اس مسئلہ پر مسلمانوں میں بے چینی اور سابق وزیر محمد علی شبیر کی جانب سے چیف منسٹر اور چیف سکریٹری کو مکتوب روانہ کیا گیا جس کے بعد حکومت کی جانب سے ایک غیر واضح انداز میں وضاحت جاری کی گئی۔ اگرچہ اس وضاحت میں کسی عہدیدار یا محکمہ کا نام درج نہیں کیا گیا لیکن بعد میں چیف سکریٹری کے دفتر سے بیان جاری کرنے کی توثیق کی گئی۔ چیف سکریٹری جو نظم و نسق کے سربراہ ہوتے ہیں، ان کی جانب سے یہ تردید کی گئی کہ روسٹر پوائنٹس میں 3 فیصد تحفظات شامل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے 100 پوائنٹس پر مشتمل روسٹر میں 19 ، 44 ، 69 اور 94 ویں مقام پر مسلم تحفظات یعنی بی سی ای کے تذکرہ کا دعویٰ کیا گیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف سکریٹری کی وضاحت کے باوجود آج تک روسٹر پوائنٹس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی اور سرکاری محکمہ جات کو نئے روسٹر پوائنٹس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ اگر روسٹر پوائنٹس میں غلطی کی اصلاح کی گئی تو پھر چیف سکریٹری کو چاہئے تھا کہ وہ ترمیم شدہ پوائنٹس کی تفصیلات عوام کے لئے جاری کرتے۔ بتایا جاتا ہے کہ خود محکمہ اقلیتی بہبود کو آج تک ترمیم شدہ روسٹر پوائنٹس کی نقل روانہ نہیں کی گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت برائے نام تردید کے ذریعہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت میں شامل ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے بھی اس مسئلہ پر چیف سکریٹری سے وضاحت طلب نہیں کی ۔ سومیش کمار اس معاملہ میں مزید کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے روسٹر پوائنٹس میں 4 فیصد تحفظات کو شامل کردیا ہے۔ آج تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ 3 فیصد تحفظات گھٹانے کے ذمہ دار کون تھے اور پھر اگر واقعی غلطی کو درست کیا گیا تو پھر نیا روسٹر پوائنٹس جاری کیوں نہیں کیا جاتا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں نے روسٹر پوائنٹس کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بارے میں چیف سکریٹری کی آفس سے کوئی مراسلہ وصول نہیں ہوا ہے ۔ اگر واقعی تحفظات کو گھٹاکر 3 فیصد کردیا گیا تو پھر اس سے مسلم امیدواروں کا بھاری نقصان ہوگا۔ روسٹر پوائنٹس میں 19 ، 45 اور 94 مقام پر بی سی ای شامل کیا گیا جبکہ 69 ویں مقام پر بی سی ای کے بجائے بی سی بی درج کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت مسلم تحفظات پر عمل آوری میں واقعی سنجیدہ ہیں تو پھر حکومت کی جانب سے نیا روسٹر جاری کیا جانا چاہئے ۔ چیف سکریٹری کے دفتر میں 20 نومبر کو جس انداز میں مبہم وضاحت جاری کی ، وہ محض مسلمانوں کو مطمئن کر نے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ جو حکومت طئے شدہ 4 فیصد پر عمل آوری میں سنجیدہ نہیں تو اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں مسلم تحفظات کا بھرپور دفاع کرے گی۔ر