سالانہ 9480 کروڑ کا خرچ، اقلیتی بہبود کے اقامتی اداروں پر 2638 کروڑ کے مصارف
حیدرآباد۔/12 فروری،( سیاست نیوز) وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد 709 اقامتی اسکولس اور کالجس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جی کشور کمار اور دیگر ارکان کے سوال پر وزیر تعلیم نے بتایا کہ اقامتی اسکولس اور کالجس پر حکومت سالانہ 9480.30 کروڑ خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں سوشیل ویلفیر کے 134، قبائیلی بہبود 61 ، اقلیتی بہبود 12 اور بی سی ویلفیر کے 19 اس طرح جملہ 226 اقامتی اسکولس اور کالجس موجود تھے۔ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد بی سی ویلفیر کے تحت 133 اقامتی اسکولس کا قیام عمل میں آیا جبکہ ایس سی ویلفیر کے104، قبائیلی بہبود 70 ، اقلیتی بہبود 192 اور بی سی ویلفیر کے 142 اقامتی اسکولوں کو جونیر کالجس میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سوشیل ویلفیر کے تحت30 ، قبائیلی بہبود 22 اور بی سی ویلفیر کے تحت 16 اقامتی ڈگری کالجس ہیں۔ وزیر تعلیم کے مطابق متحدہ آندھرا پردیش میں 4045 ٹیچنگ اور 2034 نان ٹیچنگ اسٹاف تھا جبکہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹیچنگ اسٹاف کی تعداد 25809 اور نان ٹیچنگ اسٹاف 8092 ہوچکا ہے۔ اسکولس اور کالجس میں داخلوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے بتایا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں 127214 طلبہ نے داخلے حاصل کئے تھے جبکہ تلنگانہ میں 519800 طلبہ نے داخلہ حاصل کیا اور مجموعی طور پر 392586 داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت سماجی بہبود کے اداروں پر 2616.64 کروڑ، قبائیلی بہبود 1954.24 ، اقلیتی بہبود 2638.20 اور بی سی ویلفیر کے اسکولس اور کالجس پر 2271.22 کروڑ سالانہ خرچ کررہی ہے۔ر