بجٹ قرض 3,12,191 کروڑ گیارنٹی قرض 1,35,282 کروڑ ، نرملا سیتارامن کا انکشاف
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تشکیل تلنگانہ کے موقع پر 2014 میں تلنگانہ ایک فاضل بجٹ رکھنے والی ریاست تھی خود چیف منسٹر کے سی آر نے کئی مرتبہ اس کا اعلان کیا ہے ۔ اس وقت ریاست پر صرف 69 ہزار کروڑ روپئے کا قرض تھا ۔ 8 سال میں تلنگانہ کا قرض بڑھ کر 4.47 لاکھ کروڑ روپئے تک پہونچ گیا ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے پیر کو لوک سبھا میں ریاستوں کے قرض پر تفصیلات پیش کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ کے قرضوں پر پہلی مرتبہ تفصیلاف کا انکشاف کیا ہے ۔ مرکزی وزیر فینانس نے بتایا کہ سال 2020 تک تلنگانہ پر 2,25,418 کروڑ روپئے قرض کا بوجھ تھا ۔ مارچ 2022 تک یہ قرض بڑھ کر 3,12,191 کروڑ روپئے تک پہونچ گیا ۔ یہ صرف مرکزی حکومت کے منظور کردہ بجٹ قرض ہیں گیارنٹی قرض کا انہوں نے کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ تاہم حال ہی پیش کردہ بجٹ میں ریاست کے گیارنٹی بجٹ 31 مارچ 2022 تک 1,35,282 کروڑ روپئے ہونے کی حکومت نے ہی نشاندہی کی ہے ۔ بجٹ قرض اور گیارنٹی قرض کو شمار کرلیا جائے تو ریاست تلنگانہ کا جملہ قرض 4,47,473 کروڑ روپئے ہوجائے گا ۔ رواں مالیاتی سال 53 ہزار کروڑ روپئے بجٹ قرض اور 40 ہزار کروڑ روپئے گیارنٹی قرض حاصل کرنے کی بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے ۔ اس کو بھی شمار کرلیا جاتا ہے ۔ ریاست کا قرض 5 لاکھ کروڑ کو عبور کرجائے گا ۔ تاہم مرکزی حکومت کی جانب سے حصول قرض پر ریاستوں کے لیے تحدیدات عائد کئے جانے کے بعد تلنگانہ کو کتنا قرض حاصل ہوگا ۔ اس پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ مرکزی حکومت کے تازہ قواعد کے مطابق بجٹ قرض اور گیارنٹی قرض دونوں ملاکر ایف آر بی ایم کے حدود میں ہونا چاہئے ۔ مستقبل میں بھی تلنگانہ حکومت قرض حاصل کرسکتی ہے ۔ تاہم وہ بھی بجٹ قرض کے حدود میں ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ گیارنٹی قرض کیلئے بنکوں سے رجوع ہونے پر وہ بھی ایف آر بی ایم کے حدود میں ہی ہونا چاہئے ۔ گذشتہ دو سال سے قرض حدود پار کررہی ہے ۔ جاریہ مالیاتی سال گیارنٹی قرض حاصل ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں ۔۔ ن