تلنگانہ کانگریس کی از سر نو تشکیل کیلئے دہلی میں سرگرم مشاورت

   


ورکنگ صدور ، سینئیرنائب صدور اور ضلعی صدور میں تبدیلیوں کے امکانات‘ مزید تبدیلیوں پر بھی غور
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس پارٹی ہائی کمان تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ پارٹی قائدین کے اختلافات ، ضمنی انتخابات میں شکست اور ایک کے بعد دیگر قائدین کے مستعفی ہونے کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کو سرگرم بنانے کے لیے تین دن سے دہلی میں متواتر اجلاس طلب کئے جارہے ہیں ۔ جس میں تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی عاملہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ موجودہ ورکنگ پریسیڈنٹس میں تین ورکنگ پریسڈنٹس کی کارکردگی اطمینان بخش نہ ہونے کی رائے ظاہر ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ چند سینئیر وائس پریسیڈنٹس بھی صرف اجلاسوں تک محدود ہے ۔ ان کا عوام سے کوئی رابطہ نہ ہونے پر بھی غور کیا گیا ہے ۔ ریونت ریڈی کو صدر بنانے کے دیڑھ سال بعد بھی جنرل سکریٹریز نامزد نہیں کئے گئے ہیں ۔ 20 تا 25 جنرل سکریٹریز نامزد کرنے وائس پریسیڈنٹس کی فہرست میں بھی چند نئے ناموں کو شامل کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے ۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ اندرون ایک ہفتہ تلنگانہ پردیش کانگریس عاملہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی کمیٹی کی از سر نو تشکیل میں چند اضلاع کانگریس صدور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی سکریٹریز و جوائنٹ سکریٹریز کی نامزدگی میں بھی مزید تاخیر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جمبو جیٹ پی اے سی کمیٹی کو ختم کرتے ہوئے 10 تا 15 قائدین پر مشتمل پی اے سی کمیٹی تشکیل دیئے جانے کا قوی امکان ہے ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے سیلس اور پارٹمنٹس کی کارکردگی پر بھی نظر رکھی گئی ہے ۔ ملکارجن کھرگے کے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر بننے کے بعد دہلی میں تلنگانہ کانگریس امور کی کارکردگی پر پہلی مرتبہ اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ جس میں تلنگانہ کانگریس امور کے انچارج مانکیم ٹیگور کے علاوہ تین اے آئی سی سی انچارج سکریٹریز بوس راجو ، ندیم جاوید ، روہت چودھری صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی دہلی میں ہے اور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو متحرک کرنے کی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے سینئیر قائدین نے ریونت ریڈی کے انداز کارکردگی کے خلاف ہائی کمان سے شکایت کی ہے اور ریونت ریڈی نے بھی پارٹی کے سینئیر قائدین سے انہیں تعاون نہ ملنے اور ہر فیصلہ پر تنقیدیں کرنے کی شکایت کی ہے اور کمیٹی میں ان کے حامی قائدین کی تعداد بڑھانے کی اپیل کی ہے تاکہ آزادانہ طور پر کام کیا جاسکے جس کے بعد ہائی کمان نے کمیٹی میں شامل چند قائدین کو ہٹانے انہیں پی اے سی کمیٹی میں جگہ دینے یا دوسرے عہدے دینے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ نئی کمیٹی کو تقریبا قطعیت دے دی گئی ہے ۔ اندرون ہفتہ 10 دن میں اس کا اعلان بھی ہوسکتا ہے ۔۔ ن