تلنگانہ کا ماحول خراب کرنے کی سازشیں

   

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں
تلنگانہ کو ملک کی ایک پرامن اور گنگا جمنی تہذیب والی ریاست کہا جاتا ہے ۔ یہاں ہندو ۔ مسلم اور دیگر مذاہب کے ماننے والے رہتے بستے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کے بہتر تعلقات اور رشتے ہیں۔ تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب سارے ملک میں بھی شہرت رکھتی ہے اور دنیا بھر میں بھی اس کے تذکرے کئے جاتے ہیں۔ حیدرآباد کو گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ اور مرکز کہا جاتا ہے ۔ تاہم حالیہ عرصہ میں دیکھا جا رہا ہے کہ تلنگانہ کے امن و امان اور یہاں کے فرقہ وارانہ ماحول کو متاثر کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ ان سازشوں پر عمل کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے تاہم تاحال یہ فرقہ پرست طاقتیں اور اشرار اپنے عزائم اور منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوپائے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ہے اور اشرار کے حوصلے بلند ہوتے نظر آر ہے ہیں۔ ان کے خلاف سخت ترین کارروائیوں کی ضرورت ہے تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہوسکے اور وہ اپنے عزائم کو ترک کریں۔ ریاست کے امن و امان کو متاثر کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنا چاہئے ۔ تلنگانہ ملک کی سب سے نئی ریاست ہے اور ریاست کو ترقی کے سفر پر گامزن رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء کو برقرار رکھا جائے اور امن متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ ریاست میں کئی مقامات پر فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آنے لگے ہیں اور اشرار کی جانب سے کھلے عام شرانگیزیاں ہو رہی ہیں۔ یہ واقعات حالانکہ چھوٹے چھوٹے ہیں اور انہیں مقامی سطح پر دبایا جا رہا ہے اور قابو کیا جا رہا ہے لیکن اس طرح کے واقعات کا یکے بعد دیگر رونماء ہونا تشویش کی بات ہے ۔ اسے اچھی علامت نہیں کہا جاسکتا ۔ ایسے واقعات ہی عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آئندہ کسی طرح کے بڑے واقعات پیش آنے کے اندیشے لاحق ہوجاتے ہیں۔ فرقہ پرست عناصر تلنگانہ میں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء کو متاثر کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کوشش کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے ۔
چند دن قبل حفیظ پیٹ ریلوے اسٹیشن پر ایک مسلم مسافر کو اس کی داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر اس کا لباس دیکھ کر ہندو تنظیموں کے کاموں نے نشانہ بنایا ۔ اس کے علاوہ شیواجی جینتی کے نام پر مختلف اضلاع اور شہر میں ریلیاں نکالتے ہوئے شر انگیزیاں کی گئیں۔ مساجد کے سامنے ڈی جے بجاتے ہوئے تراویح کی نماز میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے علاوہ بانسواڑہ میں معمولی بات کو ایک بڑے جھگڑے میں تبدیل کرتے ہوئے مسلمانوں کی تجارتوں اور ان کے کاروبار کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان کی ٹھیلہ بنڈیوں اور دوکانات وغیرہ کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس طرح کے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ واقعات اچانک پیش آنے والے غیر منظم واقعات نہیں ہیں بلکہ یہ ایک منظم سازش بھی ہوسکتی ہے ۔ مسلمانوں کے معاشی حالات ویسے بھی سارے ملک میں انتہائی ابتری کا شکار ہیں۔ معمولی باتوں کو نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کی جائیداد و املاک کے علاوہ ان کی تجارت کو نشانہ بنانے کی ایک روایت ملک بھر میں شروع ہوگئی ہے اور اسی سلسلہ کو تلنگانہ میں بھی دراز کیا جا رہا ہے ۔ پولیس حالانکہ فوری کارروائی کرتے ہوئے حالات پر قابو پانے کا دعوی تو کرتی ہے لیکن مقدمات مسلمانوں ہی کے خلاف درج کئے جاتے ہیں ۔ اس طرح معاشی نقصان بھی مسلمانوں کا ہی کیا جاتا ہے اور مقدمات درج کرکے جیلوںاور عدالتوں کے چکر لگانے پر بھی مسلمانوں ہی کو مجبور کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہی کہا جاسکتا ہے جس پر عمل کیا جا رہا ہے ۔
تلنگانہ ریاست ملک کی سب سے نئی ریاست ہے اورا س کو ترقی کے سفر پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ کئی شعبہ جات میں ریاست میں سرمایہ کاری حاصل کی جا رہی ہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ریاست میں فرقہ پرست طاقتوں کو سر ابھارنے کا موقع فراہم نہ کیا جائے ۔ ان کی سرکوبی کی جائے ۔ ان کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے ۔ وہ جس طرح سے ریاست کے حالات کو متاثر کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور ایسے مقدمات درج کئے جائیں جن سے اشرار کی حوصلہ شکنی ہو ۔ شمالی ہند کی سوچ کا غلبہ تلنگانہ پر ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ورنہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کو سپریم کورٹ میں ناکامی
امریکی سپریم کورٹ نے ڈونالڈ ٹرمپ کو جھٹکا دیتے ہوئے مختلف ممالک پر عائدکردہ شرحوں کو برخواست کردیا ہے اور کہا کہ شرحیں عائد کرنے کا اختیار امریکی کانگریس کو حاصل ہے اور صدر امریکہ اپنے طور پر یکطرفہ فیصلے نہیں کرسکتے ۔ سپریم کورٹ کی رولنگ امریکی نظام عدلیہ کی بالادستی کو واضح کرتی ہے تاہم ٹرمپ کا جہاں تک سوال ہے وہ اپنے ہی ملک کی سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنے تیار نہیں ہیں اور انہوں نے ایک بار پھرسے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ کئی ممالک پر دس فیصد شرحیں عائد کردی ہیں۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر ایک بار پھر سے بے چینی کی کیفیتی پیدا کرنے کی وجہ بن رہا ہے ۔ ٹرمپ کو امریکی عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے اور شرحوں کو ایک ہتھیار کے طور پر اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ دنیا بھر پر اجارہ داری قائم کرنے ٹرمپ کی کوششوں کو بھی سپریم کورٹ کی رولنگ سے جھٹکا لگا ہے اور اسی وجہ سے ٹرمپ چراغ پا نظر آتے ہیں۔