تلنگانہ کی سیاست ‘ بنیادی مسائل نظرانداز

   

Ferty9 Clinic


تلنگانہ کی سیاست میں سرگرمیاں بہت تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر منوگوڑ حلقہ کے ضمنی انتخاب کے بعد سیاسی جماعتیں اور قائدین ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات پر اتر آئے ہیں۔ ہر قائد اور جماعت کی جانب سے دوسروں کے خلاف شخصی حملے اور شخصی تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ ہر مسئلہ کو سیاست میں شخصی مخالفت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ آئندہ اسمبلی انتخابات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے ۔ سیاسی قائدین اور جماعتوں میں ایک دوسرے کے نظریات سے عدم اتفاق اور خود کو ٹھیک اور درست قرار دینے کی روایت رہی ہے لیکن یہ سب کچھ تلنگانہ میں شدت اختیار کرگیا ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ اس سارے معاملے میں حقیقی اور بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے سیاسی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دونوں ہی کی مشترکہ کوشش یہی ہے کہ کسی طرح ریاست میں کانگریس کو سیاسی حلقہ اثر میںوسعت دینے کا موقع نہ ملنے پائے ۔ دونوں ہی جماعتیں چاہتی ہیں کہ عوام میں یہ تاثر عام ہوجائے کہ آئندہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں اصل مقابلہ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان ہی ہے اور کانگریس کہیں بھی انتخابی پس منظر میں نہیں ہے ۔ اسی منصوبے کے تحت دونوں ہی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات میںمصروف ہوچکی ہیں۔ اب تک شخصی حملے کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے ایم ایل سی کے کویتا کے خلاف تنقید کی گئی جس کا جواب دیتے ہوئے ٹی آر ایس کارکنوں نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی قیامگاہ پر حملہ کردیا ۔ اس کے جواب میں بی جے پی کی جانب سے ٹی آر ایس کے ہیڈ کوارٹر کا محاصرہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے ۔ یہ سب کچھ شخصی اور ذاتی مفادات کیلئے ہے اور ان کا عوامی اور بنیادی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جمہوری طرز سیاست میں اس طرح کے حملوں کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔
جہاں تک ریاست کے سیاسی منظر کا سوال ہے تو اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہے کہ ٹی آر ایس آج بھی عوام میں اپنا حلقہ اثر رکھتی ہے ۔ بی جے پی ریاست میں خود کو ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ریاست کے جو ضمنی انتخابات ایک آدھ حلقہ میں ہوتے جا رہے ہیں وہاں ٹی آر ایس اور بی جے پی کی جانب سے ماحول کو مرکوز کیا جا رہا ہے ۔ ساری توجہ دونوں ہی جماعتوں پر مرکوز کرتے ہوئے انتخابات میں مقابلہ کیا جا رہا ہے ۔ دوحلقوں میں ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کی تو دو حلقوں میں بی جے پی کو کامیابی ملی ہے ۔ اس پس منظر میں کانگریس کہیںپیچھے چلی گئی ہے ۔ تاہم یہ ایک آدھ حلقہ کی مہم اور ایک حلقہ پر ہی ساری توجہ دئے جانے کا نتیجہ ہے ۔ جب ریاست میں سارے اسمبلی حلقوں میں انتخابات ہونگے تو کسی بھی جماعت کیلئے مخصوص حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش نہیں رہے گی ۔ ان جماعتوں کو ریاست بھر پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی اور ایسے میں جو منصوبہ بندی ضمنی انتخابات والے حلقوں میں تیار کی گئی تھی وہ ساری ریاست کیلئے نہیں بنائی جاسکے گی ۔ اس کے علاوہ ایک حلقہ میں جس قدر طاقت جھونکی جا رہی ہے وہ ساری ریاست میں نہیں جھونکی جاسکتی اور ہر حلقہ پر توجہ دیتے ہوئے انتخابات میں مقابلہ کرنا ہوگا اور اس کے نتائج ضمنی انتخابی نتائج سے مختلف بھی ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی اور ٹی آر ایس نہیں چاہتے کہ کانگریس کہیں بھی انتخابی منظرنامہ پر نظر بھی آئے ۔
جس طرح سے یہ دونوں ہی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقیدیں کر رہی ہیں اور اب حملے بھی کئے جا رہے ہیں وہ سیاست میں ناقابل قبول ہی کہے جاسکتے ہیں۔ یہ دونوں جماعتوں کی حکمت عملی بھی ہوسکتی ہے کہ عوامی توجہ کو بٹنے کا موقع نہ دیا جائے ۔ لیکن جب ساری ریاست میں انتخابات ہونگے تویہ حکمت عملی کارگر اور موثر ثابت نہیں ہوسکتی ۔ دفونوں ہی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اس طرح کی تنقیدوں ‘ الزامات ‘ جوابی الزامات اور حملوں سے گریز کریں۔ اپنی پارٹی کے کارکنوں کو بھی ایسی حرکتوں سے باز رکھا جائے ۔ بنیادی اور اہم مسائل پر توجہ کرتے ہوئے عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ یہی جمہوریت ہے ۔