فلاحی اسکیمات متاثر، اتم کمار ریڈی کا بیان
حیدرآباد ۔25 ۔ نومبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے تلنگانہ کی معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ سخت معاشی بحران کا شکار ہے اور حکومت کے پاس بھلائی کی اسکیمات پر خرچ کرنے کیلئے بجٹ نہیں ہے ۔ سرکاری خزانہ کا زیادہ تر حصہ قرض کی ادائیگی اور سود پر خرچ ہورہا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سیاسی بیانات کے ذریعہ معاشی بدانتظامی کی پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت فنڈس کی عدم اجرائی اور معاشی پابندیوں کے ذریعہ تلنگانہ کو معاشی اعتبار سے کمزور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ زائد قرض کے حصول پر مرکز کی جانب سے پابندی کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے معاشی صورتحال خراب ہے۔ حکومت نے ہمیشہ بھاری توقعات اور اعلانات کے ساتھ غیر حقیقی بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تشکیل کے وقت قرض کا بوجھ 69 ہزار کروڑ تھا جو گزشتہ 8 برسوں میں بڑھ کر چار لاکھ کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔ تلنگانہ حکومت زیادہ تر آمدنی قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ کرنے کیلئے مجبور ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے ایک بھی بھلائی اسکیم پر مکمل طورپر عمل نہیں کیا اور اسکیمات کا سیاسی اغراض کیلئے استعمال کیا گیا۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی گئی لیکن یہ صرف چند علاقوں میں تعمیر کئے گئے۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ 2.76 لاکھ مکانات تعمیر کئے گئے ۔ حضور آباد کے ضمنی چناؤ میں دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا گیا لیکن چند مخصوص خاندانوں کو امداد جاری کی گئی۔ تلنگانہ میں 40 لاکھ سے زائد افراد بیروزگار ہیں جن میں 24 لاکھ قابل نوجوانوں نے اپنے نام پبلک سرویس کمیشن میں درج کرائے ہیں۔ بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3016 روپئے الاؤنس جاری نہیں کیا گیا ۔ر