تلنگانہ کی کانگریس حکومت وعدوں کو پورا کرنے کے موقف میں نہیں

   

معاشی بحران سے نکلنے کا بھی کوئی راستہ نہیں، مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کا بیان

حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت اقتدار حاصل کرنے سے قبل عوام سے کئے گئے 6وعدوں کو پورا کرنے کے موقف میں نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کے پاس ریاست کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی قابل عمل منصوبہ ہے۔مرکزی وزیر سیاحت مسٹر جی کشن ریڈی نے آج ریاستی بی جے پی کے دفتر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل کانگریس نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں ان وعدوں کو پورا کرنے کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کئے جانے چاہئے ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس تلنگانہ کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے متعدد وعدہ کئے جارہے ہیں۔مسٹر کشن ریڈی نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ریاستی معاشی پالیسی کو صحتمند انہ طریقہ سے بہتر بنانے کے لئے تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں جو کہ حکومت کی نااہلی کو ثابت کرتا ہے۔ مرکزی وزیر سیاحت نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے ریاست کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب تلنگانہ پسماندگی کی راہ پر چل پڑنے کا خدشہ ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کی ترقی بری طرح سے متاثر ہوسکتی ہے۔انہوں نے کانگریس کی جانب سے اعلان کردہ 6 ضمانتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام سے کئے گئے وعدہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں بھی اب تک کوئی واضح احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام میں بے چینی پیدا ہونے لگی ہے۔قبل ازیں مسٹر کشن ریڈی نے پارٹی قائدین و کارکنوں سے مجوزہ پارلیمانی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا اور انہیں آئندہ انتخابات میں بہتر مظاہرہ کے لئے تیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پارلیمانی انتخابات کے دوران بہتر مظاہرہ کرے گی اور اس کے لئے پارٹی کی جانب سے وسیع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔انہوں نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے عوام کو جو 6 گیارنٹی دی تھی اس پر عمل آوری کے لئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اب بھی حکومت پالیسی تیار کر رہی ہے۔3