ملک میں سری لنکا جیسی صورتحال۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کو آئیل کمپنیاں برداشت کریں ، مرکز کی ہدایت
شہر کے 20 تا30 فیصد پٹرول پمپس پر نو اسٹاک بورڈ آویزاں۔ آئیل کمپنیاں عارضی قلت پیدا کررہی ہیں
حیدرآباد/16 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے بشمول ملک کی پانچ ریاستوں میں پٹرول اور ڈیزل کا بحران پیدا ہورہا ہے۔ ہندوستان میں سری لنکا جیسی صورتحال کے خطرات ہیں۔ موجودہ حالت کیلئے مرکزی حکومت اور آئیل کمپنیاں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہونے پر لاکھوں کروڑ آمدنی پانے والی حکومت اور آئیل کمپنیاں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد اضافی بوجھ قبول کرنے کی بجائے پٹرول اور ڈیزل کی عارضی قلت پیدا کرکے عوام کو پریشان کررہی ہیں۔ چند دن قبل ایندھن کی قیمتوں پر یومیہ نظرثانی کرکے عوام پر بوجھ عائد کرنے والی حکومت اب نئے طریقہ سے عوام کو پریشان کررہی ہے۔ خام تیل قیمتوں میں جو اضافہ ہورہا ہے اس کو برداشت کرنے کی آئیل کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے جس پر آئیل کی مارکٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ڈیمانڈ کے مطابق پٹرول اور ڈیزل ڈیلرس کو سربراہ نہیں کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، گجرات، ہماچل پردیش کے علاوہ دوسری ریاستوں کے پٹرول پمپس کے سامنے ’ نو اسٹاک ‘ کے بورڈ آویزاں ہیں جس سے سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اگر مرکزی حکومت فوری مداخلت نہ کرے تو ملک میں سری لنکا جیسی صورتحال پیدا ہوگی ۔ لوگوں کو اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے بلیک میں فیول خریدنا پڑے گا۔ سابق مرکزی وزیر فینانس چدمبرم نے کہا کہ جب عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت کم تھی مرکز اور آئیل کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی نہ کی اور نہ عوام کو فائدہ پہنچایا بلکہ 3 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل کی۔ اب جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اس کا بوجھ قبول کرکے عوام کو راحت دینے کی بجائے نقصانات سے بچنے طلب کے مطابق پٹرول اور ڈیزل سربراہ کئے بغیر عارضی قلت پیدا کی جارہی ہے۔ دوسری جانب آئیل کمپنیوں کے شیئر کی مالیاتی قدر دن بہ دن گھٹ رہی ہے۔ جاریہ سال اپریل میں ایچ پی سی ایل شیئر کی قدر 310 رپئے تھی جو اب گھٹ کر 214 روپئے ہوگئی ہے۔ اس طرح آئی او سی ایل شیئر کی قدر 134 روپئے سے گھٹ کر 109 روپئے تک پہنچ گئی ہے۔ بی پی سی ایل شیئر کی قدر 336 روپئے سے گھٹ کر 313 روپئے ہوگئی ہے۔ آئندہ اگسٹ میں ان کمپنیوں کے شیئرس مزید گھٹنے کے امکانات ہیں۔ مرکزی حکومت کے موقف کو دیکھتے ہوئے آئیل کمپنیوں نے طلب کے مطابق فیول سربراہ کرکے مزید نقصانات برداشت کرنے کی بجائے اسٹاک میں کمی کردی ہے ۔ 2014 میں 75 روپئے فی لیٹر پٹرول اور 62.45 روپئے فی لیٹر ڈیزل تھا۔ حالیہ پٹرول کی قیمت فی لیٹر 120 اور ڈیزل کی قیمت 104 روپئے ہوگئی تھی۔ مرکزی حکومت نے 21 مئی کو پٹرول پر 8.62 اور ڈیزل پر 6 روپئے تک اکسائیز ڈیوٹی میں کمی کی تھی۔ مرکز اکسائیز ڈیوٹی میں مزید کمی کیلئے تیار نہیں ۔ سارا بوجھ کمپنیوں کو برداشت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چند دن قبل ڈیلرس طلب کے مطابق پٹرول اور ڈیزل منگوایا کرتے تھے انہیں پٹرول، ڈیزل سربراہ کرنے کے بعد اسی روز شام میں رقم ادا کردی جاتی تھی۔ اب آئیل کمپنیاں پیشگی ادائیگی پر فیول سربراہ کررہی ہیں جس کی وجہ سے پمپس کے سامنے ’ نو اسٹاک ‘ کے بورڈ ہیں۔ آئیل کمپنیوں نے ڈیلرس کو ہدایت دی کہ وہ عوام کو پٹرول ، ڈیزل دیں ‘ بلک میں حاصل کرنے والوں کو روک دیں۔ ن