تلنگانہ کے تمام شہریوں کو آروگیہ شری کارڈز فراہم کرنے کی ہدایت

   

آروگیہ شری کو راشن کارڈ سے مربوط کرنے کا پابند نہ بنایا جائے ، چیف منسٹر کی کلکٹرس کے ساتھ کانفرنس

حیدرآباد۔16جولائی (سیاست نیوز) ضلع کلکٹرس اور پولیس عہدیدار تلنگانہ میں عوامی فلاح و بہبود پر توجہ دیتے ہوئے یہ احساس پیدا کریں کہ ریاست میں عوامی حکمرانی ہے اور حکومت عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے رہی ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج 10گھنٹے طویل ضلع کلکٹرس اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کی کانفرنس میں عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ 6ضمانتوں پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کریں۔ انہوں نے اجلاس کے ابتداء میں کہا کہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اندرون 7 ماہ یہ دوسری کلکٹرس کانفرنس ہے اور وہ ریاست کے انتظامیہ کو بہتر بناتے ہوئے تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے سنجیدہ ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کو منشیات سے پاک ریاست بنانے کے معاملہ میںکسی بھی مفاہمت کیلئے تیار نہیں ہے۔ پولیس عہدیداروں شہر حیدرآباد میں انسداد منشیات کیلئے چرلہ پلی جیل کے ایک گوشہ کو نشے کی عادت سے چھٹکارہ کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے خواہشمند ہیں جس پر چیف منسٹر نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت نے ریاست کی ترقی کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس میں ریاست میں تعلیمی اداروں اور معیار تعلیم کا کلیدی کردار ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ پر حکومت 85ہزار روپئے فی کس خرچ کررہی ہے اسی لئے سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم اور نتائج کی بہتری پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ۔ حکومت کے فیصلہ کے مطابق ریاست میں موجود 65 آئی ٹی آئی کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ ان میں نئے کورسس روشناس کروانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہو ںنے ضلع کلکٹرس ‘ ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسرس اور ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسرس کو سرکاری اسکولوں کا معائنہ اور مڈ ڈے میل کی سربراہی کو معیاری بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ عوام کو آروگیہ شری سہولتوں سے استفادہ کرنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں آروگیہ شری کارڈ کو راشن کارڈ سے مربوط کرنے کی الجھن کو ختم کرتے ہوئے ریاست بھر میں تمام باشندوں کو آروگیہ شری کارڈ کی اجرائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں جبکہ ڈاکٹرس کو دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے کیلئے آمادہ کیا جائے ۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے درمیان پہنچ کر خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی شناخت چھوڑیں ۔ انہوں نے ائیر کنڈیشن کمروں سے باہر نکل کر عوام کے ساتھ کام کرنے کا مشورہ دیا۔چیف منسٹر نے کہا کہ ضلع کلکٹرس حکومت کے آنکھ اور کان ہوتے ہیں اورحکومت ان کے ذریعہ ہی عوام کو دیکھتی اور سنتی ہے اسی لئے ضلع کلکٹرس کو ہمہ وقت چوکس رہتے ہوئے حقائق سے حکومت کو واقف کروانا چاہئے اس کے علاوہ عوامی مسائل کو حکومت کی ذمہ داری کے طور پر خود حل کرنے کے سلسلہ میں پیشرفت کرنی چاہئے ۔3