تلنگانہ کے طلبہ کو امریکی ویزا کی تعدادمیں اضافہ اور انٹرویو سلاٹ بڑھانے کی نمائندگی

   

ریونت ریڈی کی امریکی سفیر سرجیو گور سے ملاقات، تلنگانہ کے طلبہ کی سلامتی اور یونیورسٹیز میں باہمی اشتراک میں اضافہ پر زور
حیدرآباد۔6 ۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور سے ملاقات کی اور تعلیم ، روزگار ، سرمایہ کاری ، ٹکنالوجی ، ریسرچ اور دیگر شعبہ جات میں باہمی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی ۔ نئی دہلی میں نصف گھنٹے تک جاری رہی اس ملاقات میں ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کابینی ، روزگار ، سرمایہ کاری اور جدید ٹکنالوجی کے تحقیقی شعبوں میں امریکہ کے ساتھ اشتراک کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ جانے والے تلنگانہ کے طلبہ کو ویزے کی تعداد میں اضافہ ، ویزا اپائنٹمنٹس کی بروقت فراہمی ، انٹرویو سلاٹ بڑھانے اور ویزا درخواستوں کی جلد یکسوئی پر زور دیا۔ ریونت ریڈی نے امریکہ میں مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے تلنگانہ پروفیشنلس کو درپیش مسائل سے امریکی سفیر کو واقف کرایا۔ انہوں نے H-1B ویزا کی پروسیسنگ ، رینیول اور ویزا اسٹامپنگ کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے پر زور دیا جبکہ ویزا قوانین میں امکانی تبدیلیوں سے طلبہ کو پیشگی طور پر آگاہ کرنے کی درخواست کی ۔ ملاقات کے دوران امریکہ میں زیر تعلیم تلنگانہ کے طلبہ کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے امور پر بات چیت کی گئی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں امریکی کمپنیوں کے لئے سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ انفارمیشن ٹکنالوجی ، آرٹیفشل انٹلیجنس ، لائیف سائنسیس، فارماسیوٹیکلس ، اسٹارٹ اپس ، ریسرچ اور عصری ٹکنالوجی کے شعبہ جات میں شراکت داری کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے امریکی یونیورسٹیز اور تلنگانہ کے تعلیمی نظام کے درمیان تعاون کو فروغ دینے ، طلبہ کے تبادلے ، مشترکہ ریسرچ اور نئی ٹکنالوجی کے فروغ سے متعلق پروگراموں میں توسیع پر زور دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ امریکہ میں تیزی سے مقبول ہونے والی ہندوستانی زبانوں میں تلگو شامل ہے۔ ہندوستان کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں امریکی سفیر سرجیو گور کی معلومات کو سراہتے ہوئے تلنگانہ کی تہذیب ، روایات ، مقامی غذاؤں اور ریاست کے خصوصیات میں امریکی سفیر کی دلچسپی کو قابل تحسین قرار دیا۔ امریکی سفیر سرجیو گور نے یقین دلایا کہ تلنگانہ اور امریکہ کے درمیان تجارت ، سرمایہ کاسری ، ثقافتی تبادلہ اور عوامی رابطہ کو مزید فروغ دینے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔1/k/m/b