۔2020-23 بیاچ کیلئے فیس میں اضافہ کی خانگی انتظامیہ کی درخواست مسترد
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں میڈیکل کالجس کی فیس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے اور نہ ہی کسی بھی زمرہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق ایم بی بی ایس اور ڈینٹل کالجس کی فیس میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں جاریہ سال کے دوران کوئی تبدیلی لائی جائے گی۔ تلنگانہ میں میڈیکل کالجس میں ایم بی بی ایس کے لئے ریاستی حکومت کی جانب سے جو فیس اسٹرکچر تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق ایم بی بی ایس کی فیس پہلے زمرہ ’اے ‘ جس میں 50 فیصد نشستیں موجود ہیںکیلئے سالانہ 60ہزار ہے جبکہ ’بی‘ زمرہ کے لئے 11لاکھ روپئے ہے جس میں 35فیصد نشستیں موجود ہیں اسی طرح ’سی ‘ زمرہ کی15 فیصد نشستوں کیلئے بی زمرہ کی دوگنی فیس وصول کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے یعنی سی زمرہ میں نشست حاصل کرنے والوں کو 11لاکھ سے 22لاکھ سالانہ فیس ادا کرنے کا کالجس کو اختیار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈینٹل کالجس کی فیس کا بھی ریاستی حکومت کی جانب سے تعین کیا گیا ہے اور اس کے مطابق ’اے‘ زمرہ میں ریاستی حکومت نے 50 فیصد نشستوں پر 45ہزارسالانہ فیس مقررکی گئی ہے جبکہ ڈینٹل کے زمرہ ’بی ‘ کیلئے 4لاکھ فیس وصول کرنے کی اجازت حاصل ہے اسی طرح سی زمرہ کی 15فیصد نشستوں پر ڈینٹل کیلئے 5لاکھ روپئے تک فیس وصول کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ریاست تلنگانہ کے خانگی میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کی جانب سے ریاستی حکومت اور فیس ریگولیٹری اتھاریٹی کو درخواست دی گئی تھی کہ 2020-2023 کے کورس کی فیس میں اضافہ کیا جائے لیکن ریاستی حکومت اور تلنگانہ فیس ریگولیٹری اتھاریٹی کی جانب سے کالج انتظامیہ کی اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد فوری اثر کے ساتھ اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جاریہ سال ایم بی بی ایس اور ڈینٹل کی فیس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ لانے کے احکام جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جاریہ سال گذشتہ فیس اسٹرکچر پر ہی عمل آوری کی جائے اور اگر حکومت اور فیس ریگولیٹری کمیشن اس درخواست کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں اس پر جاریہ سال کے دوران کوئی عمل نہیں کیا جائے گا بلکہ آئندہ سال ہی اس پر ازسر نو غور کئے جانے کا امکان ہے۔بتایاجاتا ہے کہ کورونا وائر س اور معاشی حالات کے پیش نظرحکومت اور ریگولیٹری کمیشن نے فیس میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
