تلنگانہ کے 6490 اسکولس میں سولار پلانٹس کی تنصیب

   

محکمہ اسکولی تعلیم کا فیصلہ ، 289.25 کروڑ روپئے کے اخراجات ، ٹی ایس ریڈکو کو ذمہ داری
حیدرآباد ۔ 11 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : محکمہ اسکولی تعلیم ریاست کے سرکاری اسکولس کو برقی بلز کے بوجھ سے آزاد کرانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے ۔ ریاست کے 6490 اسکولس میں سولار پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے لیے 289.25 کروڑ روپئے نبارڈ کے فنڈز خرچ کئے جائیں گے ۔ ( ٹی ایس ریڈکو ) کو اسکولس میں سولار پلانٹس لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ یہ ادارہ ٹنڈرس کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایجنسیوں کا انتخاب کرتے ہوئے پلانٹس لگانے کی ذمہ داری حوالے کرے گا ۔ طلبہ کی تعداد اور اسکولس کی ضروریات کے مطابق 2 تا 10 کلو واٹ کی صلاحیت کے پلانٹس لگائے جائیں گے ۔ اس پر ایک لاکھ روپئے فی کلو واٹ کے حساب سے اخراجات ہیں ۔ حکام نے ریاست کے ہائی اسکولس اور کستوربا گاندھی گرلز ودیالیاس (KGBV) میں نئے سولار پلانٹس لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری اور ضلع پریشد کی عمارتوں میں 5 کلو واٹ صلاحیت کے پلانٹ اور ماڈل اسکولس اور کے جی بی وی میں 10 کلو واٹ صلاحیت کے پلانٹس لگائے جائیں گے کیوں کہ KGBVs اور ماڈل اسکولس میں ہاسٹلس بھی چلائے جارہے ہیں ۔ جہاں برقی کی کھپت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ اس لیے پلانٹس کی صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے ۔ فی الحال ریاست کے 11 اضلاع میں 1521 اسکولس میں 3072 کلو واٹ کی جملہ صلاحیت والے سولار پلانٹس پہلے ہی نصب کئے جاچکے ہیں ۔ اس پر 32.03 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ۔ اسکولس میں یہ تجربہ کامیاب رہا ہے ۔ بیشتر اسکولس کا برقی بل 50 فیصد تک گھٹ گیا ہے ۔ حکام نے مزید ہائی اسکولس KGBVs اور ماڈل اسکولس میں سولار پلانٹس کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ماضی میں ’ اپنا گاؤں اپنا اسکول ‘ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر ریاست کے سرکاری اسکولس میں برقی آلات نصب کئے گئے تھے ۔ ہر کلاس روم میں چار لائٹس اور چار پنکھے لگائے گئے تھے ۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر کمپیوٹر لیابس بھی قائم کئے گئے تھے ۔ ڈیجیٹل تعلیم کے نفاذ کے حصے کے طور پر حال ہی میں ڈیجیٹل انٹرایکٹیو پینل بھی قائم کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے برقی کی کھپت زیادہ ہوگئی ہے اور برقی بلز میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ اسی تناظر میں سرکاری اسکولس کو برقی بلز کے بوجھ سے آزاد کرانے کے لیے سولار برقی کا سہارا لیا جارہا ہے ۔۔ ن