جملہ 70 کروڑ کا اسکام، پولیس کے علاوہ عہدیداروں کی ٹیم تحقیقات میں مصروف
حیدرآباد۔یکم ۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلگو اکیڈیمی میں بھاری رقومات کے اسکام کے سلسلہ میں پولیس نے دو افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ یونین بینک آف انڈیا کے مینجر مستان ولی اور آندھراپردیش مرکنٹائل میوچولی ایڈیڈ کوآپریٹیو سوسائٹی کی مینجر پدماوتی کو گرفتار کیا گیا۔ عہدیداروں کے اندازہ کے مطابق تلگو اکیڈیمی سے 70 کروڑ روپئے غائب کئے گئے ۔ حکومت نے اس معاملہ کی جانچ کے لئے سکریٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن سید عمر جلیل کی قیادت میں عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ 2 اکتوبر کو پیش کرنا ہے تاہم معاملہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے رپورٹ کی پیشکشی کیلئے وقت مانگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلگو اکیڈیمی کے 11 مختلف بینکوں میں 34 اکاؤنٹس موجود ہیں۔ کنارا بینک چندا نگر برانچ سے 8 کروڑ روپئے ڈپازٹ کی گئی رقم کی منتقلی کے خلاف بینک عہدیداروں نے پولیس میں شکایت درج کرائی ۔ یونین بینک سے رقم کی منتقلی کی اطلاع ملنے پر اکیڈیمی کے عہدیدار متحرک ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکام میں اکیڈیمی کے علاوہ بینک کے عہدیدار بھی ملوث ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ 64 تا 70 کروڑ روپئے غیر قانونی طریقہ سے منتقل کئے گئے۔ تلگو اکیڈیمی نے 11 بینکوں کے 34 اکاؤنٹس میں جملہ 330 کروڑ روپئے ڈپازٹ کئے تھے۔ پولیس نے اکیڈیمی کے ڈائرکٹر اور دیگر عہدیداروں سے تفتیش کی ہے۔ اس کے علاوہ بینک عہدیداروں اور ملازمین پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد سپریم کورٹ نے تلگو اکیڈیمی کے اثاثہ جات اور رقومات کو دونوں ریاستوں میں تقسیم کی ہدایت دی ہے۔ عہدیداروں نے جب اثاثہ جات اور بجٹ کی جانچ شروع کی تو اس وقت اکاؤنٹ سے رقومات کے غائب ہونے کا پتہ چلا۔ ر