بیگم پیٹ ، وجئے واڑہ ، تروپتی اور راجمندری ایرپورٹس شامل، وزارت شہری ہوا بازی کی رپورٹ
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلگو ریاستوں تلنگانہ و آندھراپردیش میں ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے چلائے جانے والے 7 ایرپورٹس خسارہ سے دو چار ہیں۔ راجیہ سبھا میں وزارت شہری ہوا بازی کی جانب سے پیش کردہ تفصیلات کے مطابق تلگو ریاستوں میں موجود ایرپورٹس سے سالانہ 150 کروڑ سے زائد کا نقصان ہورہا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آندھراپردیش اور تلنگانہ کے جن اپوروٹس سے خسارہ کا سامنا ہے ، ان میں بیگم پیٹ ، راجمندری ، وجئے واڑہ اور تروپتی شامل ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں میں مذ کورہ 4 ایرپورٹ سے مجموعی طور پر 1861 کروڑ کا خسارہ ہوا ہے ۔ ورنگل ایرپورٹ جو ابھی کارکردگ نہیں ہوا، 2015-16 سے پانچ کروڑ کا نقصان ہوا۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ سے ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کو 564.97 کروڑ کے خسارہ کا سامنا کرنا پڑا جو خسارہ کے اعتبار سے ملک کا تیسرا بڑا ایرپورٹ ہے۔ نئی دہلی کے صفدر جنگ ایرپورٹ سے 673.91 کروڑ اور اگرتلہ ایرپورٹ سے 605.23 کروڑ کے نقصان کا تخمینہ کیا گیا ہے ۔ 2015-16 اور 2024-25 کے درمیان یہ خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مدت کے دوران ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کے تحت چلائے جانے والے 81 ایرپورٹس سے تقریباً 10,000 کروڑ کا خسارہ ہوا ۔ 2012-13 سے بیگم پیٹ ایرپورٹ پر کمرشیل آپریشنس کو روک دیا گیا ہے اور گزشتہ 10 برسوں میں 84.16 کروڑ کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2008 میں شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ سے کمرشیل پروازوں کا آغاز ہوا۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ سے اہم شخصیتوں اور فوجی طیاروں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے خسارہ میں چلنے والے ایرپورٹس میں زیادہ تر کمرشیل پرواز کے بجائے اہم شخصیتوں کے طیاروں کی آمد و رفت کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ شہری ہوا بازی کے ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ چھوٹی ایرپورٹس کو مقامی پروازوں کے لئے استعمال کرتے ہوئے خسارہ سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ وزارت شہری ہوا بازی کے مطابق 2015-16 سے جاریہ سال تک وجئے واڑہ ایرپورٹ سے 483.69 کروڑ ، تروپور ایرپورٹ 363.71 کروڑ ، راجمندری 339.16 کروڑ ، کڑپہ 103.39 کروڑ ، ورنگل 5.76 کروڑ اور دانا کنڈا ایرپورٹ سے 1.84 کروڑ کے نقصان کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ورنگل کے مامنور میں ایرپورٹ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کو حکومت کی جانب سے ایرپورٹ کی توسیع کے لئے درکار 253 ایکر اراضی ابھی تک حوالے نہیں کی گئی ۔ ایرپورٹ کی ترقی کے لئے صرف 700 ایکر اراضی مختلف کی گئی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک 253 ایکر اراضی حوالے نہیں جاتی ، اس وقت تک ایرپورٹ کی ترقی کا کام ممکن نہیں ہوگا۔