تل ابیب پر ایرانی میزائل حملہ ،7 اسرائیلی زخمی

,

   

تل ابیب۔ 4 مارچ (ایجنسیز) منگل کی شام تل ابیب پر ایک ایرانی میزائل گرنے کے نتیجے میں کم از کم 7 اسرائیلی زخمی ہو گئے۔ عبرانی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل تل ابیب کے مشرقی علاقے بنی براک میں گرا جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوئے جبکہ گاڑیوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے اپنے فوجیوں کی تعداد 6 ہونے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ 18 دیگر فوجی شدید زخمی بتائے جاتے ہیں۔سینٹ کام نے پیر کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ مشرقی امریکی وقت کے مطابق 2 مارچ کی شام چار بجے تک جنگی کارروائیوں کے دوران 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک الگ پوسٹ میں سنتھکوم نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی حملوں کے ابتدائی مرحلے میں ایک تنصیب کو نشانہ بنائے جانے کے بعد لاپتہ ہونے والے دو فوجیوں کی باقیات بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ایران کے ہلالِ احمر نے پیر کے روز بتایا کہ گذشتہ دو دنوں سے جاری امریکی و اسرائیلی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد 555 تک پہنچ گئی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ اسرائیلی و امریکی حملوں میں پورے ایران میں 131 رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں 555 افراد کی موت ہوگئی۔گذشتہ ہفتے سے قابض اسرائیل اور امریکہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت کر رہے ہیں جس میں اب تک سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور اعلیٰ سکیورٹی حکام بھی شامل ہیں۔

ایران سے داغا گیا بیلسٹک میزائل
نیٹو دفاعی نظام نے روک دیا
انقرہ، 4 مارچ (یو این آئی) ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران سے داغا گیا بیلسٹک میزائل نیٹو دفاعی نظام نے روک دیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو فضائی دفاع نے میزائل کو ترکیہ حدود میں داخلے سے پہلے تباہ کردیا۔ میزائل عراق اور شام کے فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ترکیہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل حملے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ وزارت دفاع نے کہا کہ ترکیہ اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ، خود مختاری کی خلاف ورزی پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکہ نے ایران پر ٹوماہاک میزائل برسائے تھے جس کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی ، یہ حملے اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید شدت آگئی ، امریکی بحریہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا ہے ، جسے’’ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ العربیہ نیوز کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں امریکی بحریہ کے خوفناک حملوں کے مناظر سامنے آئے ہیں۔ شیئر کی گئی 57 سیکنڈ کی ویڈیو نے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے ، جس میں میزائلوں کو اپنے اہداف کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے ۔

میزائلوں کا 17 واں مرحلہ ، امریکی و
اسرائیلی اہداف پر 40 میزائل داغے گئے
تہران، 4 مارچ (یو این آئی) پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ میزائلوں کی 17 ویں لہر میں امریکی و اسرائیلی اہداف پر 40 سے زائد میزائل فائر کیے گئے ہیں۔ تہران نے چوتھی رات بھی مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکی اہداف پر جوابی حملے جاری رکھے ہیں، دبئی میں واشنگٹن کے قونصل خانے اور متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ کی بندرگاہ پر بھی حملوں کی اطلاع ہے ۔ الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی جانب میزائل داغے جانے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بج اٹھے ، پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیل اور امریکہ کے چالیس اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز ایران کی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے ، کوئی بھی جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرے گا تو اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے ، چند روز میں دشمن بھاگ جائے گا۔ انھوں نے واضح کیا ایران دفاعی حکمت عملی جاری رکھے گا اور ملک کے سیاسی و عسکری نظام کے تسلسل میں کوئی خلل نہیں آنے دیا جائے گا۔ ایرانی فوج نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے ۔ آج صبح ایران نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی تنصیب کو ڈرون سے نشانہ بنایا۔ اربیل میں امریکی قونصل جنرل اور امریکی فوجی اڈے کے قریب چار ڈرونز مار گرائے گئے ۔ گزشتہ رات دبئی میں واقع امریکی قونصل خانے کے قریب زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھویں کے بادل دیکھے گئے ، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، سعودی دارلحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائل سے حملہ کیا گیا۔

تہران کی جانب سے اس جارحیت کا جواب قابض اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دیا جا رہا ہے۔یہ دوسری بار ہے جب قابض اسرائیل نے مذاکرات کی میز کو الٹا ہے؛ اس سے قبل پہلی مرتبہ سنہ 2025ء کی جون میں جنگ کا آغاز کر کے ایسا کیا گیا تھا۔