تنزانیہ میں سفارتی علاقہ میں حملہ، 3 پولیس عہدیدار ہلاک

   

حملہ آور کو فرانسیسی ایمبیسی کی گیٹ پر جوابی فائرنگ میں ہلاک کردیا گیا

دارالسلام: شمالی افریقی ملک تنزانیہ کے مرکزی شہر دارالسلام میں ایک مسلح شخص نے سفارتی کوارٹر سے ہوتے ہوئے حملہ کرکے 3 پولیس افسران اور ایک نجی سیکیورٹی گارڈ کو ہلاک کردیا، تاہم حملہ آور کو فرانسیسی سفارتخانے کے گیٹ پر واقع گارڈ ہاؤس میں جوابی فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر فرانسیسی سفارت خانے کی گلی میں واقع عمارات سے عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں مسلح شخص کو گارڈ کی چوکی کے اندر دیکھا گیا۔اس نے پولیس اور سامنے آنے والے سفارتخانے کے گارڈز کے ساتھ بہت نزدیک سے فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ پولیس نے کہا ہے کہ حملہ آور نے پہلے ضلع کے چوراہے پر، جہاں متعدد سفارتی مشنز کے گھر موجود ہیں، دو پولیس افسران پر فائرنگ کی، اس نے گرنے والے پولیس افسران کی رائفلز اٹھائیں اور چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع فرانسیسی سفارت خانے کی طرف بڑھا جہاں اس نے اندھا دھند فائرنگ کی اور گارڈز کی چوکی پر قبضہ کرلیا۔ صدر سمعیہ سولوہو حسن نے ٹوئٹر پر کہا کہ حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا اور امن لوٹ آیا ہے ۔ٹوئٹر پر انہوں نے کہاکہ ‘میں پولیس کی خدمات، تین پولیس افسران اور ایس جی اے سیکیورٹی کمپنی کے ایک افسر کے لواحقین سے تعزیت کرتی ہوں جو دارالسلام کے علاقے سلینڈا میں مسلح شخص کے حملے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ‘ آپریشنز اینڈ ٹریننگ کے پولیس کمشنر لیبریٹس صباس نے تنزانی پولیس فورس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹوئٹ میں بتایا کہ حملے میں ہلاک ہونے والے 4 افراد کے علاوہ 6 زخمی بھی ہوئے ۔ انسپکٹر جنرل پولیس سائمن سیرو نے مقامی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ پولیس حملہ آور کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حملے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ حملے کا تعلق پڑوسی ملک موزمبق میں تنزانیہ کے کردار سے ہوسکتا ہے جہاں اس نے شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی میں مدد کے لیے خطے کی سیکیورٹی فورس کے طور پر رواں مہینے فوجی دستے بھیجے ہیں۔ سائمن سیرو نے موزمبق کے حوالے سے کہا کہ ‘مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سپاہی وہاں ہیں ‘۔ پولیس عہدیدار لیبریٹس صباس نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مسلح شخص تنزانیہ کا شہری تھا یا اس کا تعلق دہشت گردوں سے ہے ۔